اداریہ

کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ اور بلوچستان کا زخم

اداریہ جدوجہد

گذشتہ روز کراچی سٹاک ایکسچینج پر دہشت گردانہ حملے نے بلوچستان کے سوال کو، اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ، ایک مرتبہ پھر پیش کر دیا ہے۔

اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی ہے۔ ابھی شائد بی ایل اے نے حملے کی ذمہ داری قبول بھی نہیں کی تھی کہ بلوچ قوم پرست تحریک، جس کے کئی دھڑے اور رجحان ہیں، کو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پرہر ممکنہ گالی سے نوازا جا رہا تھا۔

کراچی میں چینی قونصل خانے کے حملے کے بعد جس طرح کا ماحول پیدا کیا گیا تھا، عین اسی طرح کا ماحول میڈیا اور سوشل میڈیا پر بنایا جا رہا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردی کی آڑ میں بلوچستان کے جائز مسائل پر بھی بات نا ممکن بنا دی جائے۔

ہم سیاسی قوتوں، سول سوسائٹی اور اپنے قارئین کی توجہ مندرجہ ذیل نکات کی جانب دلانا چاہتے ہیں تا کہ ان اسباب کا خاتمہ ہو جو دہشت گردی کو جنم دیتے ہیں:

۱۔ دہشت گردی کسی بھی ملک میں ہو، عموماً اس کے اسباب اندرونی ہوتے ہیں۔ بیرونی قوتیں بعد میں ملوث ہوتی ہیں۔ بلوچستان میں بعض گروہوں کی دہشت گردانہ کاروائیاں ہوں، ملک بھر میں طالبان اور فرقہ پرستوں کی دہشت گردی ہو یا کراچی میں لسانی بنیادوں پر ہونے والی دہشت گردی ہو…ہر دہشت گردانہ سلسلے کی بنیاد، بالخصوص آمرانہ ادوار کے دوران، ملک کے حکمرانوں نے خود رکھی۔ اور اس کا خمیازہ ہمیشہ عام شہریوں نے بھگتا۔

۲۔ دہشت گردی، بالخصوص سویلین افراد اور نشانوں پر حملے، سیاسی لحاظ سے غلط طریقہ کار ہے۔ مارکسی تحریک ہمیشہ انفرادی دہشت گردی کے مقابلے پر عوامی تحریک کی بات کرتی آئی ہے۔ تاریخ نے بھی بار بار اس موقف کو درست ثابت کیا ہے۔ دہشت گرد بلاشبہ حکمران طبقے کو پریشان ضرور کرتا ہے لیکن حکمران جلد یا بدیر سنبھل جاتا ہے اور دہشت گرد ان محکوموں کے لئے نجات سے زیادہ عذاب کا موجب بنتا ہے جن کی آزادی کے لئے وہ لڑ رہا ہوتا ہے۔

۳۔ بلوچستان میں بہت سے سلگتے ہوئے مسائل ہیں۔ تاریخی طور پر معاشی ناانصافیوں نے جہاں صوبے کو پسماندہ رکھا، وہاں وقت کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک بڑا انسانی المیہ بن گیا ہے۔ یہ سرکاری بیانیہ کہ پسماندگی کی وجہ بلوچ سردار ہیں اور دہشت گردی کی وجہ را…یہ بیانیہ بلوچستان سے باہر تو کچھ پرتوں کو متاثر کر سکتا ہے مگر بلوچستان میں، درست طور پر، اس بیانئے پر کوئی یقین نہیں کرتا۔

۴۔ مٹھی بھر ترقی پسند قوتوں کے علاوہ، بلوچستان سے باہر عموماً بلوچ قوم سے یکجہتی کے مظاہرے دیکھنے میں نہیں آئے۔ یہ درست ہے کہ جس طرح سے بلوچستان میں سندھی اور پنجابی مزدوروں پر حملے ہوئے یا کراچی سٹاک ایکسچینج پر حملہ بلوچستان کے لئے یکجہتی کے عملی اظہار کو اور مشکل بنا دیتا ہے…لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجے گی۔ بندوق ہاتھ میں اٹھائے ہوئے بلوچ قوم پرست یہی تو کہہ رہے ہیں کہ ہماری مدد کو کبھی کوئی نہیں آتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ بلوچستان کے سوال پر اس قدر سنسر شپ اور ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات بلوچستان کے حق میں بولنا یکجہتی سے زیادہ سیاسی مہم جوئی بن جاتا ہے۔

مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں ہمارا مطالبہ ہے کہ:بلوچستان میں ان وجوہات کا خاتمہ کیا جائے جس کی وجہ سے بلوچ بار بار بندوق اٹھا کر پہاڑ کا رخ کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ یہ وجوہات بالکل واضح ہیں: بلوچستان کا قومی بنیادوں پر معاشی، سیاسی اور ثقافتی استحصال۔ یہ سلسلہ اب رکنا چاہئے۔ بلوچستان پر سب سے پہلے بلوچ کا حق ہونا چاہئے۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کیا جائے۔ بلوچستان میں معاشی اور ترقیاتی پسماندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے ترجیحی اقدامات کئے جائیں۔ بی ایل اے یا کسی اور گروہ کو جواز بنا کر بلوچوں کے خلاف زہر افشانی بند ہونی چاہئے۔

ہم ملک بھر کی ترقی پسند سیاسی قوتوں، محنت کش تحریک اور سول سوسائٹی سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کیساتھ ویسی ہی یکجہتی کا اظہار کریں جس کا ایک نمونہ چند دن قبل دیکھنے میں آیا تھا جب کوئٹہ سے طلبہ کو گرفتار کیا گیا تھا اور ملک بھر میں احتجاج کی کال کے چند گھنٹوں بعد ان طلبہ کو رہا کر دیا گیا تھا۔