دنیا

بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی

قیصرعباس

بھارت میں بی جے پی حالیہ انتخابات جیت کر لوک سبھا کی 543 سیٹوں میں سے 350 سے زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ جبکہ حکومت بنانے کے لئے 272 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ملک کے سبھی حصوں میں (پنجاب اور جنوبی ریاستوں تامل ناڈو اور کیرالہ کو چھوڑ کر‘ جہاں کانگریس کو کامیابی حاصل ہوئی ہے) بی جے پی نے ہر جگہ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہاں تک کہ مغربی بنگال اور بہارمیں، جہاں ترقی پسند جماعتیں ہمیشہ کامیاب ہوتی رہی ہیں، اب مودی کا طوطی بول رہاہے اور وہ ایک بار پھر بلا شرکت غیر‘ دہلی کے تخت پر براجمان ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ہے۔

مودی کی یہ زبردست کامیابی کچھ ایسی بھی غیر متوقع نہیں تھی۔ جس انداز میں انہوں نے اور ان کی پارٹی نے انتخابات کی مہم چلائی وہ بلاشبہ ملک کی سیاسی شہ رگ پر ان کی مضبوط  گرفت اور انتخابی داؤ پیچ میں مہارت کی آئینہ دار ہے۔ دوسری جانب انتخابات کے یہ نتائج کانگریس پارٹی کی غیرموثر انتخابی مہم، سیاسی ناپختہ کاری اور عوام سے بڑھتے ہوئے فاصلوں کے غماز بھی ہیں۔

بہرحال عام تاثریہ ہے کہ اس سال کے انتخابی نتائج ملک کی اندرونی سیاست، علاقائی امن اور بین الاقوامی تعلقات پر دور رس اثرات چھوڑیں گے۔

بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھی جس کے اہم پہلوتھے اپنی گزشتہ پانچ سال کی کارکردگی کا جائزہ، ووٹروں کی اکثریت کے بڑھتے ہوئے اندیشوں کی نشاندہی، ان کے سماجی رویوں کا مناسب استعمال، تمام ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال اور ان سب عوامل کی بنیاد پر انتخابی مہم کی جدید طریقوں پر تشکیل۔

گزشتہ پانچ سال میں بی جے پی کی حکومت معاشی استحکام، غربت کے خاتمے اور نوجوانوں کی بے روزگاری پر قابوپانے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ ملک کی معیشت جس کو مستحکم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے آگے نہیں بڑھ سکی۔ بھاری بھرکم کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے استحصالی ہتھکنڈوں نے بین الاقوامی اداروں اور بی جے پی کے تعاون سے منافع خوری کے نئے راستے تلاش کیے مگر اس سے اجتماعی سطح پر عوام اور ملک معاشی استحکام حاصل نہ کرسکے۔

رافیل طیاروں کا اسکینڈل اس کی ایک مثال ہے جہاں حکومت نے مروجہ قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ایک نجی سرمایہ کار کو فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی کا ٹھیکہ دلوانے کی کوشش کی۔ اسی عرصے میں زرعی پیداوار میں مسلسل کمی نظرآئی اور قرضوں سے پسے ہوئے کسانوں کی ایک بڑی تعداد نے خودکشی کی۔ بھارت میں بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ بن کر ابھری ہے لیکن پچھلی حکومت سوائے وعدوں کے کچھ نہ کر سکی۔ حکومت لوگوں کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہی اور پانی کی فراہمی کے مسئلے نے لوگوں کی کمر توڑدی ہے۔

ان تمام مسائل کی موجودگی میں بی جے پی نے انتخابات جیتنے کے لئے ایک ایسی حکمت عملی کاانتخاب کیا جس کے تحت پچھلے پانچ برس اور اس کے گھمبیر مسائل کا ذکرہی انتخابی مہم کے بیانیے سے خارج کر دیا گیا کہ ان کا دفاع کرنا پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتاتھا۔ حقیقی مسائل کی بجائے خوف، مذہبی تفریق اور سماجی نفرت کی فضا قائم کرتے ہوئے مسلمانوں اور دوسری اقلیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بی جے پی کے کئی رہنماؤں نے تو براہ راست اقلیتوں کو تمام مسائل کا ذمہ دار ٹھہرا کر ہندو اکثریت کا ووٹ بینک حاصل کرنے کی کوشش کی۔

جب کہ مودی سمیت دیگر قومی سطح کے رہنماؤں نے دبے الفاظ میں نفرتوں کو مزید ہوا دی۔ بابری مسجد پر رام مند ر بنانے کا عزم اسی حکمت عملی کا مظہر تھا جسے تما م سطحوں پر پورے زورشور سے اچھالا گیا۔ اسی طرح کشمیربھی انتخابی تقریروں کا ایک اہم موضوع رہا اور بی جے پی کے انتخابی منشور میں کشمیر  کی اس خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا عندیہ دیا جاتا رہا جس کے تحت اس کو آئینی مراعات حاصل ہیں۔

علاقائی سطح پر پاکستان نشانے پرتھا جس کی آڑ میں مودی نے ملکی سالمیت کو ایک اہم انتخابی مسئلہ بنا دیا۔ اسی دوران پلوامہ کا خودکش حملہ بھی بی جے پی کے لئے امید کی کرن بن کر ابھرا جسے بھرپور طورپر استعمال کیا گیا اور جس کے بعد کے چند دنوں میں دشمن سے انتقام ہر سیاسی بیانیے کا جزو  بن گیا۔

پاکستان میں بالاکوٹ کے مقام پر بھارتی طیاروں کی مبینہ بمباری کے ذریعے ہندو بنیاد پرستی اور قوم پرستی کو مزید ہوا دی گئی اور مودی کو ملک کے ایک ایسے طاقتور رہنما کے طور پر پیش کیا گیا جو ملک کو محفوظ  رکھ سکتا ہے۔

اس صورت حال کے پس منظر میں جہاں حکمران جماعت نے ہر قسم کے علاقائی اور مذہبی تعصبات کو ہوادے کر اپناہندو ووٹ بینک مستحکم کیا وہاں کانگریس پارٹی حکومت کی ناکامیوں کو موثر انداز میں اجاگر کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی۔ تنازعہ کشمیر اور نوجوانوں میں وسیع بیروزگاری جیسے مسائل اور مذہبی ہم آہنگی، قومی اتحاد، سماجی مساوات وغیرہ پر کانگریس اپنے انتخابی منشور کو ووٹروں کی سوچ کے قریب لانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔

بی جے پی نے جس مہارت سے روایتی اور جدید ذرائع ابلاغ کو انتخابی مقاصد کے لئے استعمال کیا اس کی مثال بھی ملک کے کسی اور انتخاب میں ملنا مشکل ہے۔ انتخابات سے پہلے کچھ ایسے حالات پیدا کیے گئے جیسے اظہار رائے کا حق صرف ان ہی لکھاریوں، نامہ نگاروں اور ٹی وی میزبانوں کو حاصل ہے جو حکمرانوں کے حامی ہوں۔ دوسری پارٹیوں کی بات کرنے والے یا غیرجانبدار تجزیہ کار غدار کہلائے۔ اگرچہ حکومت بذات خود ان سرگرمیوں سے ظاہری طور پر الگ تھلگ رہی مگر شدت پسند مذہبی کارندوں نے تشدد اور دھونس کے ذریعے میڈیا کو ہراساں کرنے میں کوئی کثر  نہ چھوڑی۔

آپ گھر میں ہوں یا باہر مودی کے ارشادات، تصاویر اور تقریریں ہر جگہ آپ کے ساتھ ساتھ تھیں۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، رسائل اور سڑکوں پر بل بورڈز پر بی جے پی اور مودی کے اشتہارات سے بچنا بہت مشکل تھا۔ مذہبی مقامات، ثقافتی مراکز اورمیلوں میں سیا سی تقریبات کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا رہا۔

بی جے پی نے بالی وڈ کے فنکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کو بھی اس بار سیاسی مہم کاباقاعدہ حصہ بنایا۔ مقبول فلمی ستاروں کو پارٹی ٹکٹ دئے گئے جن میں سنی دیول، سمرتی ایرانی اور ہیما مالینی جیسے فن کارسیاسی میدان میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ روایتی ذرائع ابلاغ کے علاوہ سوشل میڈیا کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا گیا اور فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر کے ذریعے سچ اور جھوٹ کی تفریق ہی مٹا دی گئی۔

بی جے پی کی انتخابات میں بڑی کامیابی عالمی پیمانے پر ایک ایسی لہر کا حصہ بھی نظرآرہی ہے جس میں برازیل سے امریکہ اور یورپ تک رجعت پسند دائیں بازو کی جماعتیں قومی منافرتوں اورسماجی تفریق کی بنیاد پر اقتدار میں آئی ہیں۔ بھارت جیسے دیس میں بھی، جہاں کچھ عرصہ قبل تک ثقافتی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے ریاست کے بنیادی ستون ہونے کا تاثر موجود تھا، حالیہ انتخابات نے عوام کو مزید تقسیم کر دیا ہے۔ ایسا لگتاہے کہ آنے والے پانچ سال ملک کی اقلیتوں اور مسلمانوں کے لئے آسان نہیں ہوں گے۔

لیکن مودی کے خیالات اگرچہ منفی سیاست کا ملغوبہ ضرور ہیں لیکن وہ ایک زیرک سیاستدان بھی ہے۔ داخلی محاذ پر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد وہ ضرور عالمی سطح پر بھی اپنی ساکھ بنانا چاہے گا۔ اس کی شروع سے یہ کوشش رہی بھی ہے کہ بھارت ایک علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آسکے لیکن اس راہ میں پاکستا ن سے تعلقات اور کشمیرکا مسئلہ ایک مستقل رکاوٹ ہے۔

کشمیر میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور انسانی حقوق کی پامالی پر اب عالمی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔نئی صورت حال میں بی جے پی ایک طاقتور پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان میں بھی عمران خان کی سول حکومت اور ریاستی اداروں میں ہم آہنگی کا  تاثر موجود ہے۔ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مشاورت کے امکانات پہلے سے بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔