سوچ بچار

ڈاؤنٹن ایبی: برطانوی ٹی وی سیریز اور امریکی سیاست

فوزیہ افضل خان

ترجمہ: قیصر عباس

پاکستانی نژاد امریکی دانشور فوزیہ افضل خان کا یہ مقالہ حال ہی میں ’کاؤنٹر پنچ‘ میں شائع ہواہے جس کے کچھ حصوں کا ترجمہ یہاں شائع کیا جارہا ہے۔ مقالے میں ایک برطانوی ڈرامہ سیریز اور امریکہ میں نسلی امتیاز کے خلاف ہونے والے احتجاج کا نظریاتی تقابل کیا گیا ہے۔ اس سیریز میں برطانوی اشرافیہ کی زندگی اوران کے ملازمین کی حالت زار کے حوالے سے جاگیرداری نظام کی گرتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے: مترجم

کووِڈ 19 کے لاک ڈاؤن میں مجھے برطانوی ٹی وی سیریز ’ڈاؤنٹن ایبی‘ (Downton Abbey) کے تمام چھ سیزن دیکھنے کا موقع ملا۔ اسی دوران امریکہ میں جارج فلوئڈ کے بہیمانہ قتل کی خبریں بھی ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا پہ چل رہی تھیں۔ اردگرد کے ہنگاموں اور اس ٹی وی ڈرامے کو ایک ساتھ دیکھنا میرے لئے کچھ عجیب سا تھا لیکن مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ ان دونوں میں کچھ مماثلت بھی پائی جاتی ہے اگرچہ ایک حقیقت ہے اوردوسرا افسانہ۔

ٹی وی سیریز، جو برطانوی اشرافیہ کے ایک خاندان کی کہانی ہے، کچھ اس طرح اپنے منطقی انجام پر پہنچی کہ امرا کے اس طبقے کی کم ہوتی ہوئی طاقت کا نشہ بھی برقرار رہا اورکہانی کے مرکزی کردار لارڈ اور لیڈی گرینتھم کے ان کے مزارعوں اور ملا زموں پر احسانات کی کہانیاں بھی دہرا دی گئیں۔ کہانی اس خوشگوار موڑ پر اختتام پذیر ہوتی ہے جس میں جاگیردار گرینتھم کی درمیانی بیٹی کی شادی ایک اور صاحبِ حیثیت خاندان میں ہوجاتی ہے اور اس طرح ناظرین کے لئے یہ باور کرنا بھی بہت آسان ہوجاتا ہے کہ معاشرے میں کس کی کیاجگہ ہے۔

’معاشرے میں کس کی کیاجگہ ہے‘کا احساس تو ہم امریکیوں کو اٹھارویں صدی سے ہی ہوتا آیا ہے جب برطانوی شہنشاہ جارج سوئم کا راج امریکہ میں ختم ہوا اور امریکی ریاست کی بنیاد پڑی تھی۔ اس وقت سے ہی امریکی باشندوں کو ’امن و امان‘قائم رکھنے کی حکمت ِعملی کے ذریعے ان کی حیثیت کی یاد دہانی کرائی جاتی رہی ہے۔ امن و امان کے ذریعے لوگوں کو اپنا مقام یاد دلانے کی یہی حکمت عملی اس وقت بھی دہرائی جارہی تھی جب کچھ ہی دنوں پہلے صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک چرچ کے باہراخباری نمائندوں کے سامنے تصویر کھچوا نے کی خاطراپنا رستہ بنانے کے لئے مظاہرین پر پولیس اور فوجی وردی میں ملبوس نیشنل گارڈز کے ذریعے تشدد کیا۔

صدر نے اس دوران 1807 کے ’Insurrection Act‘ کااستعمال کرکے فوج بلانے کی دھمکی بھی دی جو امریکہ کی برطانیہ سے علیحدگی اور آزادی کے بعد ایک اور ایکٹ کے تحت جاری کیا گیاتھا۔ یہ ایکٹ امریکی صدر کو بیرونی دشمن کے خطرے سے نپٹنے یا امریکہ کے اصل باشندوں کے قبائل کی سرکوبی کے لئے ریاستوں کی ملیشیا استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ صدر نے امریکی ریاستوں کے گورنرز کو ملیشیا دارلحکومت بھیجنے کی اپیل کی لیکن بیشتر ریاستوں اورسابق فوجی جرنلوں نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ ان میں سابق جوائنٹ چیف آف اسٹاف چیئرمین مائک مولن بھی شامل تھے جنہوں نے کہا کہ”امریکہ میں فوج کو اندرونی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی تاریخ انتہائی پریشان کن ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ صدر کو یہ استحقاق حاصل ہے بلکہ یہ کہ اس کودانشمندی سے استعمال کیا جانا چاہئے“۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ برسراقتدار طبقہ کس طرح اس بات کا تعین کرتاہے کہ ’اختیارات کا دانشمندانہ استعمال‘کیا جائے خصوصاً جب ان تمام لوگوں کو جو نظام کوچیلنج کریں یا جنہیں حکمران ناپسند کریں ’دہشت پسند‘ قراردے دیا جائے؟ حکمرانوں کی آسان ترکیب یہ ہوتی ہے کہ اپنی اندرونی اور بیرونی رعایا کو یہ یقین دلادیں کہ وہ ’دوسروں‘ سے بہت مختلف ہیں اور ملکی مفادات کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ ’دوسروں‘کے خلاف ہتھیار اٹھالیں۔ اس طرح برسرِ اقتدار طبقہ حب الوطنی کے جذبے کے ذریعے کسی بھی تبدیلی کے مطالبے کو رد کرتا ہے اور لوگو ں کواندرنی اور بیرونی ’دشمنوں‘ کے خلاف استعمال کرتاہے۔

اس صورت ِ حال میں یہ مطالبہ کرنا کہ پولیس اور فوج کا دائرہِ کارمختلف ہے شایدسیاسی مقاصد کے لئے ضروری ہو لیکن بنیادی طورپران دونوں اداروں کاکام ایک ہی ہے۔ ٹرمپ جب ملک میں احتجاجیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کے لئے فوج طلب کرنے کی بات کرتے ہیں توہمیں پوری کہانی نہیں سنائی جاتی۔ دراصل جب آپ لڑنے کے لئے ایک بیرونی دشمن پیدا کرلیتے ہیں تو ملک میں اندرونی دشمنوں کی پہچان بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ مظاہرین کو لوٹ مار کرنے والے گروہوں میں شامل کرکے انہیں دشمنوں کی صف میں شامل کرنا اور ان کے خلاف کاروائی اسی پالیسی کا ایک حصہ ہے۔ جب ہمارے حکمران فوج کو ملکی سلامتی کی خاطربیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کرسکتے ہیں تو اندرونی امن و امان قائم رکھنے کے لیے مظاہرین کا صفایاکرنے کا جواز بھی جائز قرار دیا جاسکتا ہے لیکن فوج اور پولیس دراصل وہ سیامی جڑواں بھائی ہیں جنہیں جدا کرنا مشکل ہے۔

اچھے اور برے پولیس اہلکاروں میں تفریق کرنا، اسی طرح یہ ثابت کرنا کہ پرامن مظاہرین اور لوٹ مار میں شامل چور اچکے دو الگ گروپس ہیں اور پولیس اور فوج کو الگ الگ ثابت کرنے پر اصرار کرنا صرف جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں۔

امریکی پولیس برطانوی ٹی وی سیریز کے اس شوفر کے کردار کی طرح ہے جو اپنے مالک کی بیٹی سے شادی کرکے اشرافیہ کے گن گانے لگتا ہے اور ہر محاذ پران کے نظریاتی دفاع میں پیش پیش رہتا ہے۔ امریکہ میں ’اچھے پولیس اہلکار‘ برطانوی اشرافیہ کے ان ملازموں کی طرح ہیں جو محل کی نچلی منزل میں رہتے ہوئے اوپر کی منزل میں رہنے والے آقاؤ ں کی خدمت اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں ہی خوش نظر آتے ہیں اور اپنے لوگوں میں بھی مالکوں کا ہر طریقے سے دفاع کرتے ہیں۔ ڈرامے میں یہ ملازمین عام طور پر تنہا دکھائے جاتے ہیں جن کا کوئی دوست نہیں اوران کی جانب سے اپنے حالات بدلنے کی تمام کوششیں ناکام ہو تی نظر آتی ہیں۔

برطانوی اشرافیہ کی طرح ہم امریکی بھی اپنے طبقاتی نظام سے بہت خوش ہیں اور اپنے معاشرے میں بھی ہر فرد کو اپنی جگہ یاد دلانے اور بیرونی و اندرونی دشمنوں کو انصاف، امن و امان اور قانونی بالادستی کا سبق سکھاتے رہیں گے!

Fowzia Afzal Khan

فوزیہ افضل خان مونٹ کلئیر سٹیٹ یونیورسٹی میں انگلش کی پروفیسر ہیں۔