خبریں/تبصرے

”علی وزیر کہاں ہے“ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ، احتجاجی مظاہرے جاری، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ

فاروق طارق

علی وزیر اپنی گرفتاری کے ایک روز بعد ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔”علی وزیر کہاں ہے؟“ کے ہیش ٹیگ سے چلنے والی اس ٹوئٹر کمپئین میں دسیوں ہزار افراد نے حصہ لیا۔ سوشل میڈیا کی اس مہم کے علاوہ سابقہ فاٹا، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے درجنوں شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں علی وزیر کو بنوں کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ عدالت نے انہیں آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ بعد ازاں انہیں انسداد دہشت گردی پولیس نے باقاعدہ طور پر تحویل میں لے کر پشاور منتقل کر دیا۔

ایسی اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ علی وزیر پر حراست کے دوران جسمانی تشدد کیا گیا ہے اور ان کا ایک پاؤں فریکچر ہوا ہے۔  علی وزیر، جو ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں مبتلا ہیں، کو ان کی دوائیاں فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔

علی وزیر کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

سوموار کو ہی آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق اتوار کے روز شوٹنگ والی جگہ کے قریب سے پانچ اور لاشیں ملی ہیں۔ یوں اس اندوہناک واقعہ کے نتیجہ میں سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے کہ آٹھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ پی ٹی ایم سے تعلق رکھنے والے دوسرے رکن اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اب تک 13 افراد اس واقعے میں جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 30 سے زائد زخمی ہیں۔

محسن داوڑ نے شمالی وزیرستان میں خرقمر چیک پوسٹ پر ہونے والے مذکورہ بالا واقعے کے خلاف میران شاہ میں ایک احتجاجی دھرنے کا اعلان بھی کیا ہے اور تمام ہمدردوں اور ساتھیوں سے میران شاہ پہنچنے کی اپیل کی ہے۔

اس ویڈیو میں محسن داوڑ کے ہمراہ وزیر گرینڈ جرگہ کے سربراہ ڈاکٹر گل عالم وزیر بھی موجود تھے جن کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز انہیں مارنا چاہتے تھے۔ محسن داوڑ نے چیک پوسٹ پر حملے کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی تنطیم پرامن ہے اور پرامن رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج تک کوئی بتائے کہ ہم نے کوئی گملا بھی تھوڑا ہو۔

اطلاعات کے مطابق پی ٹی ایم کے کارکنان کی ہلاکتوں اور علی وزیر اور ان کے آٹھ ساتھیوں کی گرفتاریوں کے خلاف سابقہ فاٹا میں ملک کے دوسرے حصوں کی نسبت بہت بڑے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ علی وزیر کے اپنے حلقے وانا میں گزشتہ دو دنوں سے ہزاروں افراد مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور بیرکوں کے باہر دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔

ملک کے درجنوں دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی تحریک چل رہی ہے۔

محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی گملا بھی توڑا ہو تو بتایا جائے۔

بالعموم بڑی تحریکوں کے عروج پر ان کو دبانے کے لئے جو بھی سرکاری جبر کیا جاتا ہے وہ بیک فائر کرتا ہے۔ یہ تاریخ کا ایسا سبق ہے جس کو غلط ثابت کرنے کے لئے بار بار جبر کے مختلف ہتھکنڈے آزمائے جاتے ہیں۔ لیکن حقیقی ایشوز کے گرد ابھرنے والی تحریکیں جبر سے وقتی طور پر ہی دبائی جا سکتی ہیں۔

اس واقعے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کی تحریک دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ جیسے ہی فائرنگ کی خبر آئی‘ کرفیو نافذ کر دیا گیا لیکن لاکھوں افراد پرواہ نہ کرتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

26 مئی کے واقعے کی خبر عالمی ذرائع ابلاغ نے بھی پرنٹ کی ہے اور انسانی حقوق اور قیدیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اپنے ایک بیان میں حکومت سے اس واقعے کی آزادانہ اور موثر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں تھا۔

پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن (HRCP) نے ایک بیان میں گرفتاریوں اورہلاکتوں پر ایک پارلیمانی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور علی وزیر کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی اپیل کی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی، عوامی ورکرز پارٹی کے علاوہ مذہبی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے بھی اپنے بیانات میں علی وزیر کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے وزرا انتہائی ڈھٹائی سے فائرنگ اور گرفتاریوں کے جواز پیش کرتے رہے۔ اگرچہ منظر عام پر آنے والی درجنوں ویڈیوز سرکاری دعووں کی تردید کر رہی ہیں۔

پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ جو چالیس کلومیٹر پیدل چل کر ایک محفوظ جگہ پہنچے، نے بھی ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اس وقت صورتحال انتہائی نازک مرحلے پر ہے۔ مظاہرین کی گرفتاریاں بھی جاری ہیں۔ کراچی میں پرامن دھرنا دینے والوں کو رینجرز اور پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ ایسی اطلاعات دوسرے شہروں سے بھی آ رہی ہیں۔

اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنا

اپنے ویڈیو پیغام میں محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ جلوس میں شامل تمام افراد غیر مسلح تھے اور سکیورٹی اہلکاروں نے اُس وقت پیچھے سے ان پر فائرنگ شروع کی جب وہ احتجاجی دھرنے میں شریک ہوئے۔

سوشل میڈیا پر علی وزیر کے حق میں لاکھوں پیغامات جاری ہوئے ہیں۔ سرکاری موقف کو اکثریت نے رد ہی کیا ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔