خبریں/تبصرے

علی وزیر جیل منتقل، اپوزیشن کا آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ، مظاہرے جاری

فاروق طارق

شمالی وزیرستان میں 26 مئی کو پیش آنے والے اندوہناک واقعے کے بارے میں تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تصدیق ہوئی ہے کہ علی وزیر کو پشاور جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کا پاؤں فریکچر نہیں ہوا ہے۔

تازہ ویڈیوز

اتوار کو پیش آنے والے اس واقعے کی مزید ویڈیوز، جو سرکاری موقف کی تردید کرتی ہیں، مسلسل سوشل میڈیا پہ آ رہی ہیں۔ ان میں سے ایک ویڈیو میں علی وزیر کی قیادت میں خرقمر چیک پوسٹ کے مقام پہ آنے والے قافلے کو دکھایا گیا ہے۔ علی وزیر پھولوں کے ہاروں سے لدے ہوئے ہیں اور اس قافلے کی قیادت کر رہے ہیں۔ نعرے بازی جاری تھی کہ اچانک قافلے پر پیچھے سے فائرنگ شروع ہو جاتی ہے۔ کئی لوگ گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ علی وزیر ایک زخمی کو دیکھ کر واپس مڑتے ہیں اور اسے اٹھاتے ہیں۔ اس کے بعد ویڈیو ختم ہوجاتی ہے۔

اس سے قبل محسن داوڑ نے بھی اپنے بیان میں بتایا تھا کہ علی وزیر نے جب زخمیوں کی مدد کرنے کی کوشش کی تو ان کی ٹانگوں کے درمیان گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی اور انہیں پکڑ لیا گیا۔

اس ویڈیو نے اس سرکاری موقف کو بالکل رد کر دیا ہے کہ حملہ علی وزیر یا محسن داوڑ اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے کیا گیا۔ جبکہ تمام کارپوریٹ میڈیا مسلسل یہی تکرار کر رہا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن

وفاقی کابینہ نے اپنے اجلاس میں سرکاری موقف کی ہی تائید کی ہے کہ شمالی وزیرستان میں ترقی کے دشمنوں نے عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل کر امن داؤ پر لگا دیا ہے اور ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے اس سارے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس واقعے پر حکومتی موقف سے اتفاق نہیں کیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ غداری کا طعنہ ہمیشہ قومی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو ملتا رہا ہے۔

جبکہ حکومتی وزیر مراد سعید نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کی طرف سے حملے کی ویڈیوز اور فون کال کے ثبوت موجود ہیں۔ یہ وہی مراد سعید ہیں جن کا کہنا تھا کہ حکومت میں آنے کے فوری بعد عمران خان کے ایک اشارے پر دو سو ارب ڈالر اکٹھے ہوجائیں گے۔

علی وزیر کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے احکامات جاری کرانے کے لئے پیپلز پارٹی کے نوید قمر نے سپیکر کو باضابطہ درخواست دے دی ہے جبکہ بلاول بھٹو نے بھی اپنے ایک بیان میں یہ مطالبہ دہرایا ہے۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ جو ویڈیو میں نے دیکھی ہے اس میں عوام تو مسلح نہیں ہیں البتہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلح ہیں۔

جبکہ لاہور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے حکومت پر تنقید کی آڑ میں مسلح کاروائی کی پس پردہ حمایت کی ہے جس پر کئی عوامی حلقوں کی جانب سے انہیں آڑے ہاتھوں لیا جا رہا ہے۔ مریم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس واقعے میں فوج کا ساتھ نہیں دیا اور ان کو عوام کا سامنا کرنے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا۔

احتجاجی مظاہرے

علی وزیر کی رہائی اور ان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات کی واپسی کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ ان کے حلقے وانا میں گزشتہ روز بھی ہزاروں افراد نے کرفیو کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مارچ کیا۔

ان کی رہائی کے لئے بیرون ملک سب سے پہلا مظاہرہ ہالینڈ میں ہوا ہے۔ جبکہ دیگر ممالک میں احتجاج کی کال ہے۔

سب سے اہم دھرنا میران شاہ میں جاری ہے۔ اگرچہ اس علاقے کو آنے والے راستے بند کر دئیے گئے ہیں اور کرفیو نافذ ہے۔ ٹیلی فون لائنیں کاٹ دی گئی ہیں اور تمام موبائل فون بھی بند ہیں۔ اس کے باوجود مظاہرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں پر ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ اور عبداللہ ننگیال بھی موجود ہیں۔

سوات میں ہونے والا مظاہرہ

محسن داوڑ سے بی بی سی کے نمائندے نے سیٹیلائٹ فون پر گفتگو کی جس میں محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ جب تک اس علاقے میں سویلین سپرمیسی قائم نہیں ہوتی ہم دھرنے کو ختم نہیں کریں گے۔

سابقہ فاٹا کے علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے کئی شہروں میں بھی احتجاج جاری ہیں۔ چمن میں ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلی میں شرکت کی ہے۔

یہ بات اب واضح ہے کہ اس واقعہ کے بات بالخصوص سابقہ فاٹا کے علاقوں میں علی وزیر کی مقبولیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ مذکورہ بالا ویڈیو میں ان کے انتہائی دلیری سے واپس جا کے زخمی کارکنوں کی مدد کرنے کو بہت سراہا جا رہا ہے۔

اس واقعے نے پی ٹی ایم کے معاملے کو ایک مرتبہ پھر عالمی دلچسپی کا موضوع بنا دیا ہے۔ آج تقریباً تمام بین الاقوامی جریدوں نے اس بارے میں رپورٹیں شائع کی ہیں۔ علی وزیر کے بارے ماضی میں بھی لکھے گئے مضامین سوشل میڈیا پہ دوبارہ وائرل ہو رہے ہیں جن میں راقم کا ایک مضمون بھی شامل ہے جو چند دنوں میں مزید دس ہزار مرتبہ شیئر ہو چکا ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔