خبریں/تبصرے

عوامی مظاہروں کے بعد لبنان کی حکومت مستعفی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گذشتہ روز قوم سے براہ راست خطاب میں لبنا ن کے وزیر اعظم حسن دیاب نے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں بد عنوانی ریاست سے زیادہ بڑی ہے اور وہ لوگوں کا ساتھ دینے کے لئے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

اس سے قبل حکومت سے استعفیٰ کے عوامی مطالبے کے دوران پیر کے روز لبنا ن کے وزیر خزانہ غازی وزنی نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ وہ دو دن میں مستعفی ہونے والے چوتھے وزیر تھے۔ اسی روز وزیر انصاف ماری نجم نے بھی استعفیٰ دیا۔ اتوار کے روز وزیر اطلاعات منال عبدالصمد اور وزیر ماحولیات دامیانوس کاترنے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یاد رہے گذشتہ ہفتے بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکے کے بعد ملک میں حکومت کے استعفیٰ کا مطالبہ شدت پکڑ گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس دھماکے سے پندرہ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

ہفتے کے روز ملک بھر میں بہت بڑے مظاہرے ہوئے اور کہا جا رہا ہے کہ پچھلے سال اکتوبر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد یہ سب سے بڑے مظاہرے تھے۔ اکتوبر میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں اس وقت کی حکومت، جس کے وزیر اعظم سعد حریری تھے، مستعفی ہو گئی تھے۔