خبریں/تبصرے

اردگانی منافقت: اسرائیل سے معاہدے پر امارات کو غداری کا طعنہ

عدنان فاروق

ٹی آر ٹی اردو کے مطابق ”ترک صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مطابقت فلسطینی عوام اور ان کے حقوق سے انحراف کی تاریخ کا سیاہ باب ہوگا۔ تاریخ اس معاہدے کی روشنی میں فلسطینی عوام کے ساتھ کی گئی غداری اور حق تلفیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی“۔

دلچسپ بات ہے کہ ترکی مسلم اکثریت والا پہلا ملک تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کئے۔ دونوں ممالک کے مابین فوجی، تجارتی اور ثقافتی تعاون پچاس کی دہائی سے موجود ہیں۔ اسرائیل سے ترکی آنے والے سیاح ترک ٹورسٹ انڈسٹری کے لئے انتہائی اہم رہے ہیں۔

رجب طیب اردگان نے بھی بطور وزیر اعظم 2005ء میں اسرائیل کا دورہ کیا۔ یہ درست ہے کہ اپنے پبلک بیانات میں بعد ازاں رجب طیب اردگان نے اسرائیل پر تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دونوں ممالک میں کشیدگی بھی رہی مگر حماس کے چاچا جی بننے والے رجب طیب اردگان نے نہ تو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے نہ ہی فوجی، تجارتی، مالی یا کاروباری معاملات ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اے رجب طیب اردگان! اتنی منافقت کیسے کر لیتے ہو؟

Adnan Farooq

عدنان فاروق ایک صحافی اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ ہیں۔