پاکستان

کیا اپوزیشن کی تحریک ’ایم آر ڈی‘ بن سکتی ہے؟

عمر شاہد

بلاول بھٹو نے آل پارٹیز کانفرنس کے بعد ’پاکستان جمہوری تحریک‘ کو فروری 1981ء میں بننے والی ایم آر ڈی کی تحریک سے تشبیہ دے رہے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔ موجودہ اپوزیشن کے الائنس کا اعلامیہ بھی مکمل طور پر عوامی مطالبات سے کٹا ہوا ہے۔ یہاں مسئلہ اب جمہوریت یا آمریت کا نہیں بلکہ معاشی تنگدستی، نجکاری اور عوام کی زندگیوں کا بن چکا ہے۔ پورے ملک کے محنت کش آئی ایم ایف کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں مگر اس تحریک کے مطالبات کو ذرا بھی جگہ نہ دینا ثابت کرتا ہے کہ بڑی جماعتیں عوام سے کٹی ہوئی ہیں اور محض اپنے مسائل کے گرد ہی گھوم رہی ہیں۔ حالت یہ ہے کہ اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن میں بیٹھ کر مزاحمتی تحریک کی باتیں کر رہی ہیں۔

ایم آر ڈی یا تحریک بحالی جمہوریت کو دیکھا جائے تو 100 سے زائد مزدور رہنماؤں نے اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ترقی پسند طلبہ تنظیموں، بار کونسلوں، ٹریڈ یونینوں، ہاریوں اور عورتوں کی تنظیموں نے اس تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس تحریک کی قوت محرکہ ٹریڈ یونینیں ثابت ہوئیں۔ ایم آر ڈی نے ملک بھر بالخصوص سندھ میں بڑی ہڑتالیں، بائیکاٹ اور مزدوروں کے مظاہرے منعقد کئے، جن میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ ستمبر 1982ء میں حکومت کی جانب سے آرڈیننس نمبر 53 کا اطلاق ہوا جس کے مطابق کوئی بھی سرکاری املاک کو نقصان پہنچاتا یا مظاہرہ کرتا پکڑا گیا تو اس کو سزائے موت کی سزا ملے گی مگر اس سے بھی تحریک رکی نہیں۔

سندھ میں یہ تحریک جو بڑے پیمانے پر عدم تشدد کی بغاوت کی شکل اختیار کر رہی تھی اس پر قابو پانے کے لئے ضیا نے 45000 فوج سندھ میں بھیج دی جہاں انہوں نے مظاہرین پر وحشیانہ حملے کئے۔ ستمبر 1983ء میں فوج اور مظاہرین کے مابین پرتشدد جھڑپیں عام ہو گئیں۔

26 اکتوبر 1983ء کو ریلوے ورکرز یونین نے لاہور مغل پورہ ورکشاپس سے جلوس نکالا اور مارشل لا کے خلاف نعرے لگائے۔ جلوس میں تقریباً دس ہزار محنت کشوں نے حصہ لیا۔ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی اورمحنت کشوں کے رہنما بشیر ظفر زخمی ہو گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو ریلوے کے احاطے تک محدود رکھنے کی کوشش کی۔ کارکن جارحانہ ہو گئے اور بسیں، کاریں اور پیٹرول اسٹیشن جلا دیئے۔ انہوں نے جنرل ضیا کے پورٹریٹ بھی نذر آتش کر دیے۔

اس کے علاوہ لاتعداد جدوجہدیں ہیں جو یہاں کے محنت کشوں نے ضیا آمریت کے دور میں کیں۔ مگر آج افسوس کہ پیپلز پارٹی کی قیادت اپنے ماضی سے پیچھا چھڑا رہی ہے۔ آج اگر موجودہ نیم فاشسٹ حکومت کے خلاف لڑنا ہے تو پھر مزدور طبقے کی جانب رجوع کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم پر آج بھی کئی ٹریڈ یونینیں موجود ہیں۔ اگر واقعی پارٹی قیادت جدوجہد کے لئے مخلص ہے تو فوراً پیپلز لیبر بیورو اور دیگر مزدور تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور جدوجہد کا اعلان کرے۔ پھر دیکھیں یہاں عمران خان تو کیا اس نظام کی بنیادیں بھی ہل جائیں گی۔

Umer Shahid

عمر شاہد پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین سے وابستہ ہیں اور مزدور تحریک میں سر گرم عمل ہیں۔