پاکستان

بلدیہ فیکٹری: 264 مزدوروں کی موت کے ذمہ دار مل مالکوں کو کوئی سزا نہیں

 خالد محمود

گذشتہ روز کراچی میں دہشتگردی کی عدالت نے آٹھ سالوں کے بعد بلدیہ فیکٹری کے کیس میں دو افراد کو سزائے موت، دو مزید ملزموں کو مختلف سزائیں جبکہ چار لوگوں کو بری کردیا ہے۔

ایک ایسا واقعہ جس میں ایک فیکٹری کے اندر 264 مزدورجل کے ہلاک ہو گئے ہو ں مگر فیصلے میں فیکٹری مالکان کو کوئی سزا نہ دی جائے تو اس کا مطلب بالکل واضح ہے: فیکٹری مالکان پاکستان میں مزدوروں کے ساتھ جیسا مرضی سلوک کریں ان کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔

علی انٹر پرائزز یا بلدیہ فیکٹری کے اندر جب آگ لگی تو مزدوروں کے پاس فیکٹری سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا حالانکہ یہ فیکٹری 11 ستمبر 2012ء والے دن آگ لگنے کے واقعہ سے دو ہفتے پہلے ہی اٹلی کی ایک آڈٹ کمپنی سے یہ جھوٹا سرٹیفیکیٹ لے چکی تھی کہ اس کی فیکٹری مزدوروں کے کام کرنے کے لئے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔

پاکستان میں بہت ساری فیکٹریاں صرف دکھاوے کے لئے ایسے اقدامات کرتی ہیں جو حکومتی اہلکاروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کے لئے کام کرنے والے آڈیٹرز کو وقتی طور پر تو مطمئن کر سکتی ہیں لیکن حقیقت میں جب کوئی حادثہ رونما ہوتا ہے تو مزدوروں کے پاس اپنی جان بچانے کے لیے کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

بلدیہ فیکٹری میں آگ کے حادثے کے حوالے سے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ فیکٹری کے اندر آگ جس نے بھی لگائی اور جس وجہ سے بھی لگائی، فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد کیا وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے پاس قانون کے مطابق ایسے راستے مہیا تھے جن کے ذریعے وہ فیکٹری سے باہر نکل سکتے اور آگ سے محفوظ رہ سکتے؟

مزدوروں نے جب باہر نکلنے کی کوشش کی تو تمام راستے بند تھے۔ فیکٹری کے تہہ خانے کے اندر کام کرنے والے مزدور اس لئے باہر نہیں نکل سکے تھے کہ لفٹ کے آگے بھی بہت سارا کپڑا اسٹور کیا گیا تھا۔ آگ لگنے کی وجہ سے وہ راستہ بھی بند ہوچکا تھا۔ تہہ خانے میں کام کرنے والے مزدوروں کو پتہ ہی اس وقت چلا کہ جب آگ اوپر کے فلور میں پوری طرح پھیل چکی تھی۔

اسی طرح اوپر کے فلور میں کام کرنے والے مزدور جب کھڑکیاں توڑ کے اوپر سے باہر نکلنا چاہتے تھے تو کھڑکیوں کے آگے لوہے کی سلاخوں کی ایسی گرل لگی ہوئی تھی جو ان کے لئے توڑنا ممکن نہیں تھا۔

پاکستان کے قانون کے مطابق اور بین الاقوامی معاہدات کے مطابق ہر فیکٹری کے اندر فائر ایگزٹ ہونا چاہئے یعنی آگ لگنے کی صورت میں باہر نکلنے کے راستے محفوظ اور کھلے ہونے چاہئیں تاکہ مزدور ان راستوں کو استعمال کرتے ہوئے فیکٹری سے باہر نکل جائیں اور اپنی زندگیاں بچا سکیں۔

فیکٹری کے اندر کسی بھی جگہ آگ لگتے ہی پوری فیکٹری کے اندر فائر الارم بجنا بہت ضروری ہوتا ہے تاکہ سب مزدوروں کو پتہ چل سکے کہ آگ لگ چکی ہے اور انھیں فیکٹری سے باہر نکلنا ہے۔ وقتاً فوقتاً فائر ڈرلز کرانا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن علی انٹرپرائزز کے حوالے سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ وہاں الارم کا مناسب انتظام نہیں تھا اور فیکٹری سے باہر نکلنے کے ہنگامی راستے بھی بند تھے جس کی وجہ سے 264 مزدور اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

گذشتہ روز کے عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی اشرافیہ اور پاکستان کی عدالتیں یہ سمجھتی ہیں کہ مزدوروں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے اور مزدوروں کی زندگیوں سے کھیلنے والے مالکان جس طرح مرضی مزدوروں سے کام کروائیں انہیں کوئی نہیں پوچھ سکتا۔

پورا انصاف تو تب ہوتاجب آگ لگانے والوں کی بھی سزا ملتی اور فیکٹری کو مزدوروں کے لیے غیر محفوظ رکھنے والے مالکان کو بھی سزا ملتی۔ آدھا انصاف کرنے سے مزدوروں کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکا گیا ہے۔

Khalid Mahmood

خالد محمود لیبر ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں اور پاکستان کی ٹریڈ یونین تحریک میں سر گرم ہیں۔