شاعری

شانتی کے نام!

قیصر عباس

میری جانب دیر سے آیا پر آیا تو جام
دل بھی تیرے نام ہے ساقی جاں بھی تیرے نام

کتنی اونچی باڑھ چنو گے ہم دونوں کے بیچ
دل کے رشتے توڑ سکوگے مشکل ہے یہ کام

گھور اندھیری رینا بیتی آگے دن ا جیالا
آنے والی برکھا ہو گی تیرے میرے نام

مندر، مسجد، گرجا اس کے نہ تیرے نہ میرے
سارے رستے اس کے رستے کیا باہو کیا شام

پت جھڑ، برکھا، ساون بھادوں، سارے موسم اس کے
جس نے من کی کھیتی کر دی ساری تیرے نام

روٹھے بالم دوار کھڑے ہیں ہاتھ لئے کشکول
قیصرؔ دل دروازے کھولو اٹھو کرو پرنام

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔