خبریں/تبصرے

پاکستانی کشمیر: آزادی مارچ دھرنا پر پولیس کا دھاوا، 51 گرفتار، مختلف شہروں میں احتجاج

راولاکوٹ (حارث قدیر) پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ کرنے والے شرکا کے دھرنے پر پولیس نے دھاوا بولتے ہوئے چیئرمین لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ سمیت 51 رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے دھرنا منتشر کرنے کے بعد راولاکوٹ کو اسلام آباد سے ملانے والی شاہراہ پر ٹریفک کا سلسلہ بحال کر دیا۔ جبکہ گرفتاریوں اور تشدد کے خلاف پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ پولیس نے پیر کی صبح پانچ اور چھ بجے کے درمیان دھرنے کے مقام پر بھاری نفری کے ہمراہ چھاپہ مارا اور گرفتاریوں اور تشدد کے ذریعے دھرنے کو منتشر کر دیا گیا۔

گرفتاریوں کے بعد ڈپٹی کمشنر سدھنوتی کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی، جس میں کہا گیا کہ سڑک بند کرنے پر دفعہ 144 نافذ تھا جس کی خلاف ورزی کی وجہ سے انتظامیہ نے کارروائی کی اور سڑک بحال کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے گرفتار رہنماؤں کے ناموں کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے لیکن تا حال ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی جا رہی ہیں۔ گرفتار رہنماؤں کو مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ گیارہ رہنماؤں کو تھانہ سٹی منگ، گیارہ کو تھانہ بلوچ، گیارہ کو ڈسٹرکٹ جیل پلندری جبکہ باقی ماندہ اٹھارہ رہنماؤں کو تھانہ پلندری میں رکھا گیا ہے۔ گرفتار رہنماؤں میں سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ، سردار شعیب خان، راجہ عابد، توصیف خالق، اظہر کاشر، ناصر جاوید سانول، ارباب احمد اوردیگر رہنما شامل ہیں۔

پیر کے روز راولاکوٹ، ہجیرہ، پلندری اور دیگر مقامات پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور پولیس تشدد کی مذمت کی گئی۔ مظاہرین نے کہا کہ پر امن احتجاج بنیادی انسانی حق ہے جس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ راستے اور سڑکیں انتظامیہ نے خود بند کیں اور مظاہرین پر انکا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم گرفتار رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف ممبر قومی اسمبلی علی وزیر سمیت دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے گرفتاریوں اور تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ بیرون ملک موجود کشمیری رہنماؤں خواجہ حسن محمود، سردار آفتاب، سردار مہتاب ایڈووکیٹ، سردار عمر حیات، سردار تنویر اعظم خان، ذوالفقار احمد خان اور دیگر رہنماؤں نے گرفتاریوں کی شدید مذمت کی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی شدید مذمت کی ہے۔