خبریں/تبصرے

اسیران گلگت: ابھی تک صرف دو اسیران کو رہا کیا گیا ہے

نازنین نیاز ہنزائی

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے 14 بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے علی آباد میں ہونے والے تاریخی دھرنے کو ختم ہوئے اب تین ہفتے ہو چکے ہیں مگر ابھی تک صرف دو قیدی رہا کئے گئے ہیں۔

رہا ہونے والے ایک قیدی سلمان کریم ہیں جو سخت بیمار تھے۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ جیل میں اپنی ذہنی توازن بھی کھو چکے ہیں۔

دوسرے قیدی منہاج تھے۔ ان کا بھی دوران اسیری دل کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ بھی دل کے مریض اور سخت بیمار ہیں۔ دونوں کو رات گئے ان کے گھروں کے باہر پہنچایا گیا۔ یہ دونوں افراد گذشتہ ہفتے رہا کئے گئے تھے۔

7 سے 10 اکتوبر تک جاری رہنے والے تاریخی دھرنے کو حکومت نے اسیران کے خاندانوں پر مبنی کمیٹی سے ایک معاہدے کے ذریعے ختم کرایا تھا۔ وعدہ کیا گیا تھا کہ 30 نومبر تک تمام اسیران کو مرحلہ وار رہا کر دیا جائے گا۔

ابھی تک جس سست روی سے رہائی ہوئی ہے، اس کے پیش نظر لوگوں کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

بابا جان اور ان کے تیرہ ساتھی تقریباً دس دس سال سے قید و بند اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

Nazneen Niaz Hunzai

نازنین نیاز ہنزائی عوامی ورکرز پارٹی کی رکن ہیں اور ہنزہ سے تعلق رکھتی ہیں۔