دنیا

جموں و کشمیر کے لوگوں کے حقوق پر بی جے پی کی حکومت کا شب خون جاری

یوسف تاریگامی

جموں و کشمیر کے لوگوں کے بنیادی اور جمہوری حقوق پر بی جے پی حکومت کی طرف سے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو لئے گئے غیر جمہوری اور غیر منصفانہ انداز میں من مانی کر کے جموں و کشمیر تنظیم نو کے نفاذ کے ایک سال بعد بھی، بلا روک ٹوک شب خون جاری ہے۔

ایک ایسی ریاست جس کو خصوصی حیثیت حاصل تھی کو اپنے لوگوں کی رائے کے بغیر اس کی حیثیت سے محروم کردیا گیا جو آئین کے دفعہ 3 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ 27 اکتوبر کو جاری کیے گئے نئے زمینی قوانین کی طرح، اپریل میں جاری کیے گئے ڈومیسائل قوانین، جموں و کشمیر کے لوگوں کو یہ یقین دلانے سے قاصر ہیں کہ آبادیاتی تبدیلی پر ان کے خدشات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اب جموں و کشمیر کی سابقہ ریاست میں کون زمین خریدے گا۔ نئے زمینی قوانین کے نتیجے میں بڑے زمینی مگر مچھ اورساہو کار اپنا کھیل کھیل سکیں گے جو دہائیوں سے کسانوں اور ان کے بچوں کے حاصل کردہ فائدہ اور ترقی کی تباہی ہو گی۔

مرکز ی سرکار کی طرف سے بیرونی لوگوں کے لئے جموں و کشمیر کی اراضی کھولنے کے کچھ ہی دن بعد، جموں و کشمیر انتظامیہ نے سرمایہ کاری کے نام نہاد مقاصد کے لئے محکمہ صنعت و تجارت کو 24 ہزار کنال اراضی منتقل کر دی ہے جبکہ محکمہ جنگلات کی جانب سے کلیئرنس کے بعد جلد ہی 65 بڑے کارپوریٹ ہاؤسز اپنے یونٹ قائم کریں گے۔

جموں و کشمیر کے آئین کو ختم کرنے اور آرٹیکل 370 اور 35 اے کو کالعدم قرار دینے کا ارادہ جموں و کشمیر کی آبادی کو تبدیل کرنا تھا۔ اب ایسے قوانین کے ساتھ ہی سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ 5 اگست، 2019ء سے، جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت کی تکبرانہ کارروائیوں سے اشارہ ملتا ہے کہ، ”ہم وہ کرتے ہیں کیونکہ ہم کر سکتے ہیں“۔ اس سے بی جے پی کچھ انتخابات جیت سکتی ہے، لیکن یہ کشمیر میں دیرینہ مسائل کا حل نہیں ہے۔

پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کے ایک سال اور تین ماہ کے بعد بھی، جموں و کشمیر کے عوام کو اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے ان کے جمہوری حقوق سے انکار کر دیا گیا ہے۔ بی جے پی اور اس کی تنظیموں کے علاوہ کسی بھی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔ کشمیر کی آواز کو زبردستی دبا دیا گیا ہے۔

5 اگست، 2019ء کے مرکزکے فیصلے کو چیلنج کرنے والی 23 درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ حکومت کے لئے مناسب تھا کہ وہ عدالت میں ان درخواستوں پر فیصلہ سنانے کا انتظار کرے جو آخری مرتبہ مارچ میں اٹھایا گیا، بجائے اس کے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ مکمل اور ناقابل واپسی ہے۔

پچھلے سال بی جے پی حکومت نے جموں و کشمیر کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے لئے سردار ولب بھائی پٹیل کی یوم پیدائش کا انتخاب کیا۔ اس تاریخ کا انتخاب کر کے حکومت امیت شاہ کے تیارکردہ فارمولے سے سچائی اور تاریخ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ ریکارڈ کی بات ہے اور پٹیل کی یادداشتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ نہ صرف فریق تھے بلکہ آرٹیکل 370 کے مسودے تیار کرنے میں بھی شامل تھے۔

ان کی رہائش گاہ پر 15 اور 16 مئی 1949ء کو جموں و کشمیر کے لئے خصوصی حیثیت پر تبادلہ خیال ان کے، نہرو اور شیخ محمد عبد اللہ کے درمیان ہوا۔ اس کے نتیجے میں گوپالسوامی آیا نگر کے ساتھ پٹیل بھی موجود تھے، جنہوں نے مسودہ تیار کیا جو آخر کار آرٹیکل 370 بن گیا۔ یہ نہرو کی غیر موجودگی میں ایک بار پھر پٹیل ہی تھے جس نے دستور ساز اسمبلی میں آرٹیکل 370 کوشکل دی۔

اس سال بھی اسی دن، وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات میں اپنی تقریر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ گذشتہ سال، کشمیر ہندوستان کی ترقی میں شامل ہوا تھا جو کہ سراسر جھوٹ ہے۔ سی پی آئی (ایم) نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم اور ریاست کی حیثیت کم کرنے کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔ سی پی آئی (ایم) ملک کے شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جموں وکشمیر اور لداخ کے عوام سے ان کے لئے آئینی اور جمہوری حقوق سے انکار کے خلاف اظہار یکجہتی کریں اور مودی سرکار کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کریں۔