نقطہ نظر

شاعری: انقلاب کا موثر ہتھیار

سرمد خواجہ

شاعری انقلاب کا موثر ہتھیار ہے۔ اس لئے 7 نومبر 1917ء کے روس میں مزدوروں کے انقلاب نے اعلیٰ شاعری کو جنم دیا۔ مثال کے طور پر روس ہی کے مایا کووسکی (1893-1930ء) کی شاعری کو اس وجہ سے ’بلبل انقلاب‘ کاخطاب ملا۔ گارسیا لورکا کی شاعری جسے ہسپانیہ کی سول جنگ (1936-39ء) میں فاشسٹوں نے قتل کیا۔ جرمنی کے برٹولڈ بریخت اور لاطینی امریکہ کے پیبلوناروڈا کی شاعری۔ ہندستان میں اقبال نے روسی انقلاب کے قائد لینن اور دنیا بھر کے مزدوروں کے قائد مارکس پر نظمیں لکھیں۔

اقبال کے ہم عصر الف دین نفیس کی شاعری میں بھی روسی انقلاب کی روح کی چھاپ بڑی واضح ہے۔ ان کی ایک غزل قابل غور ہے۔ اسمیں طبقاتی امتیازات اور جدوجہد کا بیان ہے اور مزدوروں کو انقلاب کے لئے جگایا ہے۔

الف دین نفیس ہمیں مزدروں کے آئینوں میں ملک کا عکس دکھاتے ہیں جو دو طبقات یعنی مزدوروں اور طبقہ اشرفیہ پر مشتمل ہے اور جو مخالفانہ سیاسی عزائم کے حامل ہیں۔ بقول الف دین:

دو قدرتی فریق سیاسی ہیں ملک میں
مزدور و مالدار کو دیکھا کرے کوئی

جس طرح مارکس نے انگلستان کی فیکٹریوں کے جائزے سے ان قوتوں کا انکشاف کیا جو سرمایہ درانہ نظام کو چلاتی ہیں اسی طرح الف دین نفیس نے ملک میں مزدوروں کی معقول اجرت کی خاطر کی جانے والی جدوجہد میں انقلاب کا بیج دیکھا۔ اس جدوجہد میں ہڑتال مزدورں کا مستند اور سچا ہتھیار ہے۔ یہ جدوجہد وقفے وقفے سے ہندستان کے نو آبادیاتی معاشرے میں جاری تھی۔ معقول اجرت اور طویل اوقات کار میں کمی کی خاطر کی جانے والی مزدوروں کی جدوجہد مارکس کی کتاب ’سرمایہ‘ کا بنیادی نقطہ ہے۔ بقول الف دین نفیس:

مزدور و مال دار کا ہے مختلف مفاد
ہڑتال میں یہ رنگ تماشا کرے کوئی

اس جدوجہد کی مرکزی وجہ ہے نجی ملکیت۔ اس کی خاطر ایک مختصر طبقہ دیگر تمام لوگوں کو دباتا اور ان پر جبر اور ظلم کر تا ہے۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو کے مطابق تمام انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد پر مبنی ہے۔ جیسے کہ مددتوں غلام مالکوں کے خلاف لڑتے رہے اور آخر انسانیت کو غلامی سے نجات ملی اور 1789ء میں فرانس کے انقلاب نے جاگیردارانہ نظام ختم کیا اور سرمایہ درانہ نظام شروع ہوا لیکن طبقاتی جنگ جاری رہی۔ کیونکہ سرمایہ داروں کے آنے کے بعد مزدروں کااستحصال شروع ہوا۔ تاہم آج کی طبقاتی جنگ میں زمینداروں اور سرمایہ داروں کو خوفناک حریف مزدورں کا سامنا ہے جو ان کو ختم کرنے کے در پے ہے۔ اپنی کتاب ’فلسفے کی غربت‘ میں مارکس نے اس بات کو یوں کہا ہے: فیکٹریاں مزدورں کے ہجوم کو ایک جگہ جمع کرتی ہیں۔ مزدوروں کا مشترکہ مقصد حیات یعنی روزی کمانا ان کو متحد کرتا ہے۔ سرمایہ داروں کے محاذ کے خلاف مزدوروں کی تنظیم سیاسی رنگ لیتی ہے۔

نفع کمانے کی ہوس سے ایک فیکٹری سے متعدد فیکٹریاں بنتی ہیں۔ جس سے مزدوروں کی تعداد بھی بڑھتی ہے اور ان کی جدوجہد اور ہڑتالیں بھی۔ روس میں مزدوروں اور کسانوں کی معاشی ہڑتال سیاسی ہڑتال بنی جو بغاوت میں تبدیل ہوئی۔ پاکستان میں بھی طبقہ اشرفیہ کے خلاف جدوجہد کے لئے مزدوروں اور کسانوں میں اتحاد کی ضرورت ہے۔ بقول الف دین نفیس:

ہیں خود بخود اکٹھے زمیندار و مالدار
مزدور اور کسان کو یک جا کرے کوئی

مزدورں اور کسانوں کو ان کی سیاسی پارٹی میں جمع کرنا آسان کام نہیں۔ طبقہ اشرفیہ کا مرتب کردہ نظام مضبوط ہے۔ اس کو میڈیا کی حمایت ہے۔ جو روزانہ استحصال پر مبنی اس نظام اور اس کی مصنوعی چمک دمک کی ثنا خوانی کرتا ہے اور اس نظام کی جمہوریت کے باریک خول کے نیچے خوفناک قانونی اور عسکری نظام ہے جو مزدوروں اور کسانوں کی ہر شورش کو کچلنے کے لئے تیار ہے۔ تاہم سیاسی جامعات کی تشکیل کے بغیر مزدور اور کسان اپنی سیاسی جڑیں کھو بیٹھتے ہیں اور دوسری جماعتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ مارکسزم کا بنیادی اصول ہے کہ مزدورں اور کسانوں کی آزادی انہوں نے خود حاصل کرنی ہے۔ بقول الف دین نفیس:

مزدور اور کسان کی تنظیم سے نفیس
ایک انقلاب ملک میں برپا کرے کوئی

تاہم انقلاب کے لئے مزدورں اور کسانوں کے دل و دماغ کو جیتنا ضروری ہے۔ ان کو اس کام کے لئے قائل کرنا ضروری ہے۔ طبقاتی امتیاز ات پر تنقید کرتے رہنا ضروری ہے۔ تا کہ انقلاب کے خیالات لوگوں میں رچ بس جائیں اور سیاسی قوت بن جائیں۔ اس کے لئے مخلص لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو فراخ حوصلے کے حامل ہوں۔ وہی مزدورں اور کسانوں کا نجات دہندہ بن سکتے ہیں۔ بقول الف دین نفیس:

پہلے کمال عاشقی پیدا کرے کوئی
پھر آرزوئے منزل لیلی کرے کوئی
ہمت بلند چاہیے، مقصد بلند تر
یہ کام سر بلند، دو بالا کرے کوئی