نقطہ نظر

’بلوچستان کے صوبہ بننے سے مسئلے حل نہیں ہوئے تو گلگت بلتستان صوبہ بھی کسی مسئلے کا حل نہیں‘

حارث قدیر

سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ممکن نہیں ہے۔ وہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں کشمیر کی مکمل آزادی کیلئے کام کرنیوالی سب سے بڑی عوامی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (ص)کے چیئرمین ہیں۔ جموں کشمیر میں طلبہ کو بائیں بازوکے نظریات سے لیس کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والی اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی اولین طلبہ تنظیم جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن سے سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اورتنظیم کے ایک مقبول ترین مرکزی صدر منتخب ہوئے۔

گزشتہ سال سات ستمبر کو ان کی قیادت میں ہزاروں افراد نے کنٹرول لائن کی طرف مارچ کیا اور تین روزہ دھرنا دیکر بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور فوجی جبر کے خلاف لڑنے والے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ رواں سال چوبیس اکتوبر کو انکی قیادت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا گیا، جسے راستے میں ہی روک دیا گیا اور کچھ روز گرفتار رکھنے کے بعد سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ اور انکے 50 دیگر ساتھیوں کو رہا کیا گیا۔ گزشتہ روز ’روزنامہ جدوجہد‘ نے سردار محمد صغیر خان کا ایک خصوصی انٹرویو کیا جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

جموں کشمیر کے مسئلہ کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

سردار صغیر: جموں کشمیر کا مسئلہ ایک انسانی المیہ ہے، اس خطے میں بسنے والی مختلف قومیتی، ثقافتی اور جغرافیائی اکائیوں کو پہلے بھی ایک جبر کے ذریعے ایک شخصی راج میں جوڑے رکھا گیا، جس کے خلاف اس خطے کے لوگوں نے لہو رنگ جدوجہد کی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت بھی تمام قومیتوں اور جغرافیائی اکائیوں کو سامراجی معاہدوں اور جبر کے ذریعے ایک یا دوسرے ملک کے ساتھ جوڑ دیا گیا لیکن اس خطے کے انسانوں کو تقسیم کر کے ایک بین الاقوامی تنازعے کے طور پر چھوڑ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم جموں کشمیر کی تمام اکائیوں میں بسنے والے انسانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق اور اختیار مانگتے ہیں اور اس کے لئے عملی طورپر جدوجہد کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کا صوبہ بننا چاہتے ہیں، کیا اس سے مسائل حل ہو سکتے ہیں؟

سردار صغیر: سامراجی قبضے کی موجودگی میں جموں کشمیر کی کسی بھی اکائی سے متعلق کیا جانیوالا کوئی بھی فیصلہ عوام کی منشا اور مرضی کے مطابق نہیں ہو سکتا، جب تک قبضہ موجود ہے، سامراجی فوجیں موجود ہیں، تب تک رونما ہونے والا ہر ایک آئینی، قانونی اور سیاسی فیصلہ سامراجی مفادات اور پاکستان، بھارت اور چین کے بالادست اور طاقتور طبقات اور ریاستوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے ہی کیا جائے گا۔ اس کا عام انسانوں کی زندگیوں سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ نہ ہی عام انسانوں کی زندگیوں میں ایسے اقدامات سے کوئی بہتری آ سکتی ہے۔ ہاں ایسے اقدامات کے ذریعے مقامی گماشتہ حکمران اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور مراعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پاپولر بیانیہ ترتیب دیتے ہوئے ریاستی ایما پر یہ پروپیگنڈہ پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کا صوبہ بننا چاہتے ہیں۔ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ گلگت بلتستان سے کب فوجی اور سامراجی قبضہ ختم کر کے آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں یہ پوچھا گیا کہ وہ کیا بننا چاہتے ہیں۔ ایسا کبھی اور کہیں نہیں ہوا۔

گلگت بلتستان کے عوام کیلئے آپ کیا متبادل پروگرام پیش کرتے ہیں؟

سردار صغیر: ہم یہ کہتے ہیں کہ صرف اور صرف ریاست جموں کشمیر کے تنازعہ میں شریک تمام اکائیوں کے ننانوے فیصد مظلوم، محکوم اور محنت کش عوام کا یہ حق اور اختیار ہے کہ وہ ایک آزادانہ ماحول میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں اور تمام اکائیوں کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں، الگ الگ رہنا چاہتے ہیں یا کسی اور ریاست کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ جب تک یہ حق اور اختیار اس خطے کے عوام کو نہیں دیا جاتا اس وقت تک کیا جانیوالا ہر فیصلہ سامراجی بنیادوں پر ہوگا اور اسکا مقصد صرف اور صرف حکمران طبقات اور مقامی حکمران اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہی ہو گا۔ گلگت بلتستان سمیت پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے وسائل کی لوٹ مار کو مزید تیز کرنے کیلئے ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے حکمران طبقات کے اس گھناؤنے کھیل کو بے نقاب کرنے اور پاکستان کے مظلوم و محکوم عوام اور محکوم قومیتوں تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا تھا۔

اسلام آباد کی طرف کئے جانے والے آزادی مارچ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

سردار صغیر: ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اس جدوجہد میں ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے۔ ہم نے اس دوران نہ صرف اپنے ٹارگٹس کو حاصل کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ہمیں اپنی طاقت اور اپنی کمزوریوں کا بھی احساس ہوا جن کا ہم نے ببانگ دہل اظہار بھی کیا اور اپنی کمزوریوں اور غلطیوں سے سیکھتے ہوئے مستقبل میں آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کو عوام کی وسیع تر پرتوں تک پھیلانے اور پاکستان اور بھارت کے محنت کش طبقات اور مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ اپنی جڑت بنا کر اس ظالمانہ نظام کے خلاف ایک فیصلہ کن لڑائی کی طرف بڑھا جائے گا۔

آپ کی نظر میں گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنائے جانے اور انتخابات کے ذریعے عام لوگوں کو کیا حاصل ہو گا؟

سردار صغیر: سرمایہ دارانہ نظام میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ دوسرے لفظوں میں یہ سرمائے کی آمریت ہی ہے جسے جمہوریت اور آمریت کے نام پر اس خطے کے محنت کشوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں بسنے والے ننانوے فیصد انسانوں کا کون سا ایک مسئلہ حل کر دیا گیا ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کو عبوری صوبہ بنا کر اس خطے کے عوام کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ آج سے پچاس سال قبل بلوچستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کے وقت بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ صوبہ بننے کے بعد بلوچستان ترقی کرے گا اور عوامی مسائل حل ہونگے لیکن پچاس سال بعد ہمیں نظر آرہا ہے کہ گوادر پورٹ سے گیس، کوئلے اور ریکوڈک کے ذخائر تک پر وفاق اور سامراجی کمپنیوں کا اختیار اور قبضہ ہے جبکہ بلوچستان کی پسماندگی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

سب سے بڑے وسائل اور سب سے کم آبادی کے حامل بلوچستان صوبے کے مسائل حل کرنے کی بجائے گزشتہ پچاس سال میں مزید محرومیوں میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نظام کے اندر رہتے ہوئے نام نہاد آزاد ملک کے عوام کا ایک بھی بنیادی مسئلہ حل نہیں کیا جا سکا تو اس ملک کے زیرقبضہ نوآبادیاتی علاقوں گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کا کوئی ایک بھی مسئلہ کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔ نہ ہی سامراجی جبر اور فوجی قبضے کے اندر رہتے ہوئے کوئی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سامراجی حکم ناموں کی بنیاد پر حقوق دیئے جا سکتے ہیں۔

جموں کشمیر کے عوام کو مستقبل کی جدوجہد کن خطوط پر استوار کرنی چاہیے؟

سردار صغیر: سرمایہ دارانہ ریاستوں کا فریضہ حکمران طبقات کے مفادات اور سرمائے کے تحفظ کیلئے آئینی، قانونی اور مسلح جبر کرنا ہوتا ہے۔ محنت کش عوام کو حقوق صرف اور صرف جدوجہد کے ذریعے انقلاب کی صورت میں ہی میسر آ سکتے ہیں۔ یہ جدوجہد اس خطے کے مظلوم و محکوم عوام کو اپنے وسائل اور اپنے زور بازو پر تعمیر کرنا ہوگی، پاکستان اور بھارت کی تمام تر مظلوم قومیتیں اور محنت کش طبقات اس جدوجہد کے قدرتی اتحادی ہیں۔ اور اس اتحاد کو یقینی بنانے اور اجتماعی بنیادوں پر اس نظام کو اکھاڑنے کے علاوہ آزادی اور انقلاب کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اسلام آباد کی طر ف آزادی مارچ سے خاطر خواہ نتائج نہ ملنے پر آپ مایوس ہوئے، کیا ایسا ہی ہے؟

سردار صغیر: ہم نے لانگ مارچ کے ذریعے جہاں بے شمار کامیابیاں سمیٹیں ہیں، نہ صرف اس خطے پر قابض قوتوں کو ایک پیغام دیا ہے بلکہ اس خطے کے محکوم و مظلوم عوام تک بھی بھرپور پیغام پہنچایا ہے وہیں ہمیں اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا بھی احساس ہوا ہے۔ جب ہم جدوجہد عوام کیلئے کر رہے ہیں تو اس لئے ہم عوام کے سامنے ہی جوابدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا اظہار بھی ہم نے عوام کے سامنے ہی کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ نہ تو ہمارے قدم لڑکھڑائے ہیں، نہ ہمارے حوصلے کمزور ہوئے ہیں اور نہ ہی ہم جدوجہد کے سفرمیں تھکن محسوس کر رہے ہیں بلکہ ہم پہلے سے زیادہ مضبوط بنیادوں پر اپنی پارٹی کو مضبوط کرتے ہوئے، پارٹی کیڈرز کو نظریاتی اور سیاسی بنیادوں پر تیار کرتے ہوئے فیصلہ کن لڑائی کے لئے آگے بڑھیں گے اور حتمی فتح تک جدوجہد کا سفر جاری رکھیں گے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔