دنیا

ٹرمپ کے کلون

سرمد خواجہ

صدر ٹرمپ کی تو جنوری میں ہو گئی چھٹی۔ تاہم دوسرے ملکوں، جیسے پاکستان اور برازیل، میں ٹرمپ کے کلون کچھ سالوں سے اُس کی طرح ہی اپنے ملکوں میں جمہوریت، جمہوری اداروں، مزدوروں کے حقوق اور غریبوں کی فلاح و بہبود کے نظام کی تباہی کر رہے ہیں۔ غریب لوگوں کے چیمین بن کر ان کا ووٹ لیتے ہیں اور حکومت کرتے وقت بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے فائدے کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کے بزنس کی خاص طور پر مدد کرتے ہیں، جسے کورنی کیپٹل ازم کہتے ہیں اور عسکریت پسندی کو بڑھاتے ہیں۔ اس لئے ان کلونوں کی چھٹی بھی ضروری ہے۔

ٹرمپ اور اس کے کلونوں کی ایک ہی سیاست ہے: سیاسی حریف کی شخصیت کو بدنام کرنا، اس پرجھوٹے الزامات لگانا، اس کے خلاف نفرت پھیلانا اور ہو سکے تو اس کو غائب یا ختم کرنا۔ کووڈ کے پھیلنے کی خبر کی طرح سب بری خبروں کو دبانا یا دوسروں کو ذمہ وار کہنا۔ دن رات جعلی خبروں سے پروپیگنڈا کرنا، اپنی ثنا خوانی کرنا۔ میڈیا کو سختی سے کنٹرول کرنا، میڈیا کے مالکوں کو دہشت زدہ کرنا، عدلیہ کو ہراساں کرنا، مخالف سیاسی جماعتوں کو دہشت زدہ کرنا، سول سوسائٹی کو دہشت زدہ کرنا، اس کے اختلاف کو مدھم یا ختم کرنا۔ خفیہ ایجنسیوں سے سیاسی کام کرانا۔ جمہوریت کے اداروں، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات پر شک ڈالنا، ان کو بھی بدنام کرنا۔ چال بازی سے لوگوں کی توجہ ان کے مسائل سے دور رکھنا اور میڈیا اور خاص طور پر ٹی وی سکرین پر چھایا رہنا۔

نہ ٹرمپ نہ ہی اسکے کلونوں کا کوئی ٹھوس سیاسی، معاشی یا سماجی پروگرام ہے۔ بس وہ ہر کوئی اور سب نعرے استعمال کرتے ہیں جو ان کو طاقت حاصل کرنے اور اسے بر قرار رکھنے میں مدد دیں۔ اینٹی کرپشن، اینٹی سوشل ازم، اینٹی مافیہ اور اینٹی اشرافیہ کے کھوکھلے نعروں سے وہ لوگوں کے تعصب کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

ان لوگوں میں زیادہ تر شہروں میں رہنے والے مڈل کلاس کے لوگ شامل ہیں جو اینٹی کرپشن اور پاکستان میں سال ہا سال انڈیا کے خلاف پروپیگنڈے کی وجہ سے، اینٹی انڈیا کے نعروں سے خاص طور پر متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے معاشرے کا عدم برداشت حصہ ہیں جو انہیں بے چین کرنے والے حقائق کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان لوگوں کی حمایت کی وجہ سے ہی ٹرمپ جیسی سیاست نے پاکستان میں تحریک کی شکل اختیار کی۔ اصل بات یہ ہے کہ ٹرمپ اور اس کے کلون مزدورں اور کسانوں کو دباتے ہیں اور اس کے ساتھ اشرافیہ کے خلاف نعرے بازی کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

ٹرمپ اور اس کے کلونوں کی سیاست نئی نہیں۔ سو سال پہلے جرمنی میں ہٹلر نے اسی طرح کی سیاست سے، جسے فاشزم کہتے ہیں، لوگوں کی حمایت حاصل کی۔ اقتدار حاصل کرنے کے چند مہینوں میں ہٹلر نے جمہوریت ختم کی اور ریاستی بربریت شروع کی۔ سیاسی مخالفوں کو ختم کیا یا ساتھ ملایا۔

پی ٹی آئی کی ٹائگر فورس کی طرح کا نیم فوجی دستہ بنایا جس سے مخالفوں پر تشدد کیا۔ میڈیا پر ایسی باتیں کی گئیں جو ہماری مڈل کلاس کے پی ٹی آئی کے حامیوں میں مقبول ہیں۔ مثال کے طور پر کرپٹ لوگوں کی گردنیں کلہاڑی کے ساتھ کاٹی جائیں یا بڑے بلیڈ کے ساتھ (گیلوٹین)۔ یاد رہے فاشسٹوں کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم ہوئی جس میں بے شمار ملک تباہ ہوئے اور کروڑوں لوگ مارے گئے۔

فاشزم یورپ میں بڑھتی ہوئی مزدوروں کی جدوجہد کا جواب تھا۔ اس کو ختم کرنے کے لئے۔ اس کی تنظیموں کو ختم کرنے کے لئے اور مزدوروں، کسانوں، مڈل کلاس اور دانشور طبقے کے اتحاد کو ختم کرنے کے لئے۔ اس لئے فاشزم کو کہتے ہیں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے سب سے زیادہ جنونی اور دہشت گردانہ گروہ کی آمریت۔ تاہم نہ فاشزم نہ ہی اس کی پاکستان یا امریکہ یا برازیل میں جدید شکل سے لوگوں کے مسائل حل ہوں گے۔ کچھ مدت انہیں دبا دیتے ہیں۔ لیکن وہ ایک یا دوسری صورت میں ابھرتے رہیں گے۔

ٹرمپ کے کلونوں کی طرح ہٹلر کوبھی جرمنی کی فوجی قیادت نے بنایا تھا۔ اس میں وہ خصوصیات تھیں جن کی فوجی قیادت کو ضرورت تھی ملک میں سیاسی عمل کو کنٹرول کرنے کے لئے۔ 1919ء میں سوشلسٹ انقلابیوں کو کچلنے کے بعد جرمن فوج نے محکمہ اطلاعات بنایا جس کا مقصد تھا جرمنی کی سیاست کو کنٹرول کرنا، سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنا، لوگوں کی رائے کو اس طرح اثر کرنا کہ ان کی سوچ سے سوشلزم ختم ہو جائے۔ اس کام میں ہٹلر نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پروپیگنڈا ان کا موثر ہتھیار تھا۔ بات کو اتنی بار دوہرایا جاتا تھا کہ پروپیگنڈا کرنے والے کو بھی اپنے پروپیگنڈا پر یقین ہو جاتا۔ ہمارے ملک میں اس کی اچھی مثال ہے: ’نواز شریف چور ہے‘ اور ’اگر فوجی بجٹ میں کمی ہوئی تو ہندستان ہمیں کھا جائے گا‘۔

ہٹلر نے اس طرح کے پروپیگنڈے سے سوشلسٹوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلائی، پڑوسی ملکوں پر چڑھائی کی، لاکھوں کو جان سے مارا۔ اسی طرح کے پروپیگنڈے سے پاکستان میں بھی سیاسی حریفوں کے خلاف نفرت پھیلائی جا رہی ہے، اے این پی کے قائدین کو جان سے مارا گیا اور کچھ روز پہلے انہیں مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ یورپ کی تاریخ ہمیں دو سبق سکھاتی ہے۔ یہ کہ ٹرمپ کے کلونوں کی سیاست کے خلاف متحدہ محاذ بنانے کی ضرورت ہے اور مزدوروں اور کسانوں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف مزدوروں اور کسانوں کی تحریک ہی لوگوں کے مخالف ہر قسم کی سازشوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر سکتی ہے۔