خبریں/تبصرے

اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے: اسرائیلی اخبار ہارتز

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اسرائیلی جریدے ہارتز نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے والا امریکہ کے بعد دوسرا ملک سعودی عرب ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ ان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انٹرویو میں امریکہ اور ایک دوسرے ملک کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ مذکورہ انٹرویو کے بعد اسرائیل اور مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر کے جریدوں اور پاکستانی میڈیا پر اس خبر کو شہ سرخیوں میں جگہ ملی، جس کے بعد ترجمان وزارت خارجہ نے دباؤ والی بات کی سختی سے تردید کر دی تھی اوراس خبر کو ایک گھڑی گئی کہانی قرار دیا۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی بحالی کے معاہدوں میں سعودی عرب کا کلیدی کردار رہا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں اور اس کیلئے پاکستان جیسے دوسرے سب سے زیادہ مسلم اکثریتی اور واحد اسلامی جوہری ملک کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ پہلے سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔

اسرائیلی اخبار کے مطابق پاکستانی سفارتکار اور ایک سینئر فوجی عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے علاوہ سعودی عرب ہی وہ ملک ہے جو پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے۔ سعودی عرب کے پاس دو ارب ڈالر کا قرض ایک مضبوط کارڈ ہے جس کی توسیع ابھی تک مشکوک ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کو کافی پریشانی بھی لاحق ہے۔

اسرائیلی اخبار میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سفارتکاری کا انتظام وزیراعظم نہیں بلکہ فوج کرتی ہے، فوج نے مشرق وسطیٰ میں سعودی پراکسی جنگیں لڑ کر ایک منافع بخش کاروبار تیار کر لیا ہے اور اب فوج ہی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو باقاعدہ بنائے گی۔ اسرائیل پاکستان تعلقات بھارت کے اسرائیل کے ساتھ بڑے پیمانے پر دفاعی معاہدوں میں بھی توازن قائم کرنے میں مدد گار ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج اپنے پسندیدہ صحافیوں کو اسرائیلی نیوز چینلوں پر حاضر ہو کر یہ مقدمہ پیش کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ یہاں تک کہ پندرہ ماہ قبل اسٹیبلشمنٹ کے حامی صحافیوں کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی سے متعلق گفتگو کو آگے بڑھانے کا کہا گیا تھا تاکہ ردعمل کا اندازہ لگایا جا سکے۔ سنسرشپ کے شکار پاکستانی میڈیا میں اس طرح کی کوششیں بھاری سپانسر کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتیں۔

ہارتز کے مطابق قبل ازیں مشرف دور حکومت میں اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنیکی واحد کوشش کی گئی تھی جس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔ تاہم اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اس مرتبہ فوج کی طرف سے موساد اور آئی ایس آئی کے ذریعے تعلقات استوار کرنیکی کوشش کی کامیابی کے زیادہ امکانات اس وجہ سے بھی ہیں کہ اس طرح کے معاملات میں رد عمل دینے والے اسلامی پریشر گروپ بھی زیادہ تر فوج نے ترتیب دیئے ہیں اور فوج ہی کے کنٹرول میں ہیں جنہیں آسانی سے قابومیں لایا جا سکتا ہے۔