پاکستان

ڈاکٹر عشرت حسین: مزدوروں کی پنشن کا دشمن خود ورلڈ بینک سے پنشن لیتا ہے

فاروق سلہریا

وزیر اعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین ایک دلچسپ کردار ہیں۔ جس طرح ہر مارشل لا دور میں قانون کی رکھوالی کے لئے شریف الدین پیرزادہ کہیں سے نمودار ہو جاتے تھے، اسی طرح ڈاکٹر عشرت حسین بھی ہر مارشل لائی یا نیم مارشل لائی دور میں ہماری معیشت کے تحفظ کے لئے باہر نکل آتے ہیں۔ جب سے موجودہ ہائبرڈ رجیم مسلط ہوا ہے، ڈاکٹر عشرت پھر سرگرم ہیں۔

گذشتہ دنوں انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ورلڈ بینک سے تنخواہ نہیں، پنشن لیتے ہیں اور 20 نومبر کو ان کے منہ سے نکل گیا تھا کہ وہ ورلڈ بینک سے تنخواہ لیتے ہیں۔ ہماری اطلاع کے مطابق ورلڈ بینک کے سابق ملازمین کو پنشن ہی نہیں، میڈیکل انشورنس بھی ملی ہوتی ہے۔ مشیر موصوف اس کا ذکر بھی کر دیتے تو اچھا ہوتا۔ خیرہمیں اس بات سے دلچسپی نہیں کہ موصوف ورلڈ بینک سے پنشن لیتے ہیں یا اسرائیل سے۔ ہم صرف اس حکمران طبقے کی منافقت کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب تحریک انصاف کی حکومت میں پے اینڈ پنشن کمیشن کے ان داتا ہیں۔

اس ان داتا کی نظر اب کلرکوں، نائب قاصدوں، ریلوے مزدوروں، ڈاکیوں، نرسوں، سپاہیوں اور دیگر محنت کشوں کی پنشنوں پر ہے۔ بار بار کہا جا رہا ہے کہ بجٹ کا بڑا حصہ پنشنوں کی نظر ہو جاتا ہے۔

بجٹ کا بڑا حصہ غیر پیداواری مد میں لئے گئے بیرونی قرضوں کی نظر ہو جاتا ہے (ایک اندازے کے مطابق یہ رقم سالانہ دو ارب ڈالر بنتی ہے)۔ ورلڈ بینک کے پنشنر کو یہ غیر پیداواری اخراجات اور ان سے جڑے قرضے نظر نہیں آتے۔ بجٹ کا بڑا حصہ دشمن کے بچوں کو پڑھانے پر خرچ ہو جاتا ہے (سپری کے مطابق 10 ارب ڈالر سالانہ)، ورلڈ بینک کے پنشنر کو وہ نظر نہیں آتا۔ ’برق گرتی ہے تو بے چارے پنشنروں پر‘۔

ڈاکٹر صاحب نے ہمیں یہ معلومات بھی فراہم نہیں کیں کہ ورلڈ بینک سے انہیں کتنی پنشن ملتی ہے۔ اتنی تو ضرور ملتی ہو گی کہ انہیں دوائیوں کی بڑھتی ہوئی قیمت یا تیس روپے کا نان خریدتے ہوئے پریشانی نہیں ہوتی ہو گی۔

اتنی تو ملتی ہو گی کہ بچوں سے پیسے مانگنے کی نوبت نہیں آتی ہو گی۔ ورلڈ بینک کی پنشن کے سہارے اچھی زندگی گزارنے والے ہمارے ماہر معاشیات کو اتنا بھی علم ہو گا کہ محنت کشوں کی چھوٹی سی پنشن سے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں کھاتے نہیں کھلتے۔ یہ پنشن پاکستان کے گلی محلوں دکانوں مارکیٹوں میں خرچ ہو کر ملکی معیشت کا ہی حصہ بن جاتی ہے۔ ماہر معیشت نہ سہی ایک پنشنر کو تو اتنا احساس ہونا چاہئے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔