خبریں/تبصرے

پانی کی عالمی قلت: 3 ارب افراد متاثر

لاہور (جدوجہد رپورٹ) دنیا بھر میں پانی کی قلت سے تین ارب سے زائد افراد متاثر ہو رہے ہیں۔ پانی کا تحفظ نہ کرنے اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کی ناقص حکمت عملی کے باعث گزشتہ دو دہائیوں کے وران فی کس تازہ پانی کی مقدار پانچواں حصہ کم ہو گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’ٹیلی گراف‘ کی رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی، بڑھتی ہوئی طلب اور ناقص انتظام کی وجہ سے اس وقت دنیا میں تقریباً ڈیڑھ ارب افراد پانی کی شدید قلت یا خشک سالی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے دنیا کے مختلف حصوں میں زراعت روز بروز مشکل ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبی وسائل کے تحفظ اور ماحولیاتی بحران سے نمٹنے میں ناکامیوں کے نتیجے میں اربوں افراد کو بھوک اور وسیع پیمانے پر غزائی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کے ڈائریکٹرجنرل کوڈونگیو نے کہا کہ ”ہمیں میٹھے پانی کے وسائل کی طلب اور رسد کے مابین عدم توازن اوربارشوں کی کمی کو بہت سنجیدہ لینا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔ پانی کی قلت کو فوری طورپر دور کرنا چاہیے۔“

انہوں نے کہا کہ ”اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف میں بھوک کا خاتمہ اور صاف پانی کی فراہمی میں بہتری شامل ہے لیکن دنیا بھر میں کاشتکاری کے طریقوں کو بہتر بنانے اور وسائل کے انتظام کیلئے مزید بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔“

فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق سب صحارا افریقہ میں پچاس ملین افراد ان علاقوں میں رہتے ہیں جہاں شدید خشک سالی نے ہر تین سال میں ایک مرتبہ فصلوں اور چراگاہوں پر تباہ کن اثرات مرتب کئے۔ دنیا بھر میں زرعی پیدوار کا دسواں حصہ اور چراگاہوں کا چودہ فیصد حصہ خشک سالی کی کیفیت سے دو چار ہے۔ رواں سال دنیا میں زرعی پیدوار بہتر رہنے کے باوجود افریقہ کے کچھ علاقوں میں اب بھی خوراک کی شدید قلت کا خطرہ موجود ہے۔

عالمی سطح پر زرعی پیداوار کا ساٹھ فیصد انحصار بارانی کاشتکاری پر ہے اور بارانی کاشتکاری قابل کاشت زمینوں کے 80 فیصد حصہ پر ہو رہی ہے، بقیہ زمینوں پر آبپاشی کے ذریعے سے کاشتکاری کی جا رہی ہے تاہم آبپاشی اس کا حل نہیں ہے، پوری دنیا میں آبپاشی کے ذریعے پیداوار کرنیوالے ساٹھ فیصد کھیتوں میں پانی کا بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی کسانوں کو آبی وسائل سے محروم کر سکتی ہے۔

اس رپورٹ میں معلوم ہوا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر کسانوں کی زیر قیادت آبپاشی کا نظام بڑے پیمانے کے منصوبوں کے مقابلے میں زیادہ موثر ہوتا ہے۔ ایشیا میں بڑے پیمانے پر چلنے والی سکیموں نے زیر زمین پانی پر انحصار کیا ہے اور وسائل پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈالا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر کسانوں کو پانی کے حقوق کی محفوظ مدت کے فقدان، قرض اور مالی اعانت تک محدود رسائی جیسی اضافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایک تحقیق میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ دنیا کی قابل کاشت زمین تیزی سے چند ہاتھوں میں مرکوز ہوتی جا رہی ہے، بڑی کمپنیاں اور بین الاقوامی مالکان پیداوار کے بیشتر حصے کو اپنے قبضے میں لے رہے ہیں۔ چھوٹے کاشتکارں کے کھیت زیادہ تر ماحول دوست خطوط پر چلتے ہیں، تیزی سے کاشتکاری سے باہر ہو رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق دنیا کے ایک فیصد زرعی کمپنیوں کے مالکان دنیا کی 70 فیصد قابل کاشت اراضی کے مالک ہیں۔

فوڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن نے متنبہ کیا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے خوراک کی پیداوار میں تبدیلی لانا ہو گی۔