خبریں/تبصرے

ٹوکیو اولمپکس ملتوی ہونے سے 2.8 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا

لاہور (جدوجہد رپورٹ) آرگنائزنگ کمیٹی، شہری حکومت اور جاپان کی قومی حکومت کے ذریعے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹوکیو اولمپکس کے التوا کی صورت 2.8 ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ٹوکیو اولمپکس آٹھ ماہ قبل ملتوی کر دیئے گئے تھے جو اب 23 جولائی 2021ء کو شروع ہونگے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اخراجات کا تقریباً دو تہائی حصہ دونوں حکومتوں نے اٹھایا جبکہ ایک تہائی حصہ نجی مالی اعانت سے چلنے والی اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے ذمے تھا۔ اولمپکس کے کچھ اضافی یا مجموعی اضافی اخراجات انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ذمے ہیں جو نشریاتی حقوق اور سپانسرشپس کی فروخت کے ذریعے آمدن حاصل کرتی ہے۔

بڑھتے اخراجات کے ساتھ اولمپکس کو وبائی کیفیت کے دوران منعقد کرنے سے متعلق شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ اولمپکس کے معاملہ پر جاپانی عوام تقسیم ہے اور بیرون ملک سے شائقین کو بغیر ویکسین داخلے کی اجازت دینے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

جاپان نے وبائی مرض پر بیشتر ممالک سے بہتر کنٹرول کیا ہے۔ 125 ملین آبادی کے ملک میں کورونا وائرس سے تقریباً 2200 اموات ہوئی ہیں۔

کورونا وائرس کی وجہ سے اولمپکس ملتوی ہونے سے قبل آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ٹوکیو گیمز تاریخ کے ساتھ سے مہنگے گرمائی اولمپکس ہونگے۔ التوا سے قبل جاپان نے کہا تھا کہ اولمپکس کے انعقاد میں 12.6 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ 2013ء میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بینس آئس میں اولمپکس کی بولی حاصل کرنے کے موقع پر جاپان کا کہنا تھا کہ اولمپکس کے انعقاد پر مجموعی طو رپر 7.3 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

سی ای او آرگنائزنگ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے ڈومیسٹک سپانسرز کی تلاش جاری ہے۔ جاپان کو پہلے ہی ڈومیسٹک سپانسرز سے 3.3 ارب ڈالر کا ریکارڈ سرمایہ مل چکا ہے جو گزشتہ اولمپکس سے کم از کم دو گنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منتظمین کو انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی سے 650 ملین ڈالر ملنے کی توقع نہیں تھی، یہ ٹوکیو حکومت کی کافی مدد کرے گی۔

اولمپکس میں 11 ہزار اولمپک اور 4 ہزار 350 پیرا اولمپک ایتھلیٹس کی شرکت متوقع ہے۔ ہزاروں آفیشلز، جج، وی آئی پیز، میڈیا اور براڈ کاسٹرز بھی ان کے ہمراہ ہونگے۔