سوشل

آج کی ویڈیو: علی وزیر کا نام سن کر سپیکر قومی اسمبلی پتلی گلی سے نکل گئے!

سوشل ڈیسک

 کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اگر کسی جرم کے الزام میں گرفتار ہوتا ہے تو ملک کے قانون کے مطابق سپیکر کو اختیار حاصل ہے کہ پولیس یا جیل حکام کو حکم دے کر اس کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں لائے۔ لیکن گزشتہ روز قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے شمالی اور جنوبی وزیرستان سے منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے معاملے میں بے بسی کا اظہار کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کا ایک وفد بدھ کو رکن قومی اسمبلی آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرانے کیلئے سپیکر کے پاس گیا۔ سپیکر نے انہیں یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر اگلے ہفتے جاری کیے جائیں گے۔ تاہم علی وزیر اور محسن داوڑ بارے وفد کے سوال پر اسد قیصر نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا میرے بس کی بات نہیں!

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اسد قیصر کے بس کی بات نہیں تو پھر کس کے بس کی بات ہے؟ اگر ایک انتہائی نازک معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی اس قدر بے بس ہے تو پھر ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی کیا حیثیت ہے؟ اور اگر اسد قیصر صاحب اس قدر بے اختیار ہیں تو استعفیٰ دے کے گھر کیوں نہیں چلے جاتے؟ غریب عوام کے پیسوں سے کروڑوں روپے کی تنخواہ اور مراعات کیوں لے رہے ہیں؟ ان سوالات کو ہم اپنے قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

’آج کی ویڈیو‘میں ہم سپیکر قومی اسمبلی کی ہی ایک ویڈیو شائع کر رہے ہیں جو سوشل میڈیا پر خاصی وائرل رہی جس میں جب ان سے علی وزیر بارے سوال کیا گیا تھا تو وہ بوکھلا کے پتلی گلی سے نکل گئے۔


آپ بھی سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والی ویڈیوز ہمیں ارسال کر کے سوشل ڈیسک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اپنی ویڈیوز ہمیں یہاں ارسال کریں۔