خبریں/تبصرے

علی وزیر کی ضمانت مسترد: آج ملک بھر میں احتجاج ہوں گے

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پشاور کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے جنوبی وزیرستان سے رکن قوم اسمبلی اور بائیں بازو کے رہنما علی وزیر کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے انہیں سندھ پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ علی وزیر کی رہائی کے لئے آج پورے ملک میں پی ٹی ایم کے تحت احتجاج منعقد کیے جائیں گے۔

علی وزیر کے وکیل کے میڈیا کو بتایا کہ علی وزیر کو جمعرات کی صبح پشاور کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں سندھ پولیس کے حوالے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت سے علی وزیر کو ٹرانزٹ ضمانت دینے کی استدعا کی گئی تھی لیکن عدالت نے ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے علی وزیر کو بذریعہ جہاز پشاور سے کراچی لے جانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

علی وزیر سمیت پی ٹی ایم کے دیگر رہنماؤں کے خلاف کراچی کے سہراب گوٹھ تھانے میں رواں ماہ 6 دسمبر کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 6 دسمبر کو اجازت کے بغیر جلسہ کیا اور سکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیں۔

علی وزیر نے عدالت میں پیشی کے موقع پر ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکے حوصلے بلند ہیں اور ریاستی جبر اور باطل قوتوں کا ہر میدان پر ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

دوسری طرف علی وزیر کی گرفتاری پر پی ٹی ایم رہنماؤں کے علاوہ پاکستان کے ترقی پسند کارکنوں اور سیاسی و سماجی تنظیموں کی طرف سے بھرپور مذمت کی گئی ہے اور انکی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آج لبرٹی چوک لاہور میں علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف احتجاج بھی کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف آج احتجاج کئے جائیں گے۔

علی وزیر سابق فاٹا کے علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف مزاحمت میں انکی قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے۔ دہشت گردی اور ریاستی جبر کے خلاف عوامی حقوق کی بازیابی کیلئے جدوجہد کے دوران علی وزیر کے خاندان کے 15 سے زائد افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔ علی وزیر فاٹا اور وزیرستان میں عوامی حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ بائیں بازو کی تحریک کے بھی سرگرم رہنما ہیں۔

علی وزیر نے تین مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا اور بھاری ووٹ حاصل کئے، گزشتہ انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے ایم این اے منتخب ہوئے۔ وہ پی ٹی ایم تحریک کے صف اول کے قائدین میں بھی شریک ہیں۔ اس تحریک کے دوران بھی انہوں نے متعدد مرتبہ گرفتاریوں اور صعوبتوں کا سامنا کیا ہے۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں نے علی وزیر کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جمہوریت کا مذاق اڑانا بند کیا جائے اور منتخب عوامی نمائندوں کی آوازوں کوبند کرنے اور انہیں گرفتاریوں اور تشدد کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔