خبریں/تبصرے

علی وزیر پر تشدد کی افواہیں: فوری رہائی کا مطالبہ

لاہور (نامہ نگار) گذشتہ روزپاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن اور پی ٹی ایم کے صف اؤل کے رہنما علی وزیر پر کراچی پولیس کی حراست میں تشدد کی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلنے کے بعد انکے اہل خانہ اور سیاسی و نظریاتی ساتھیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ تاہم انکے ساتھی اور ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ علی وزیر بخیریت ہیں اور انکے ایک دوست کی علی وزیر سے سندھ حکومت نے ملاقات کروائی ہے۔ انہوں نے ٹویٹ میں علی وزیر اور دیگر گرفتار ساتھیوں کی رہائی کیلئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

قبل ازیں اتوار کے روز سوشل میڈیا پر علی وزیر کے اہل خانہ اور پی ٹی ایم کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر علی وزیر کی جان کو خطرے سے متعلق خبریں جاری کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ علی وزیر پر دوران حراست تشدد کیا جا رہا ہے اور انہیں جان سے مارے جانے کا خدشہ ہے۔

علی وزیر کو چند روز قبل پشاور میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پشاور کی مقامی عدالت نے انہیں ٹرانزٹ وارنٹ پر سندھ پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا جہاں علی وزیر اور ساتھیوں کے خلاف کراچی میں بغیر اجازت جلسہ منعقد کرنے اور اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے الزامات میں ایف آئی آر درج ہے۔

ایک ویڈیو پیغام میں علی وزیر کے بھائی ملک رحمت اللہ نے پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف سے علی وزیر کی حفاظت کی ضمانت دینے کا مطالبہ کیا۔ علی وزیر کے بھتیجے عالمگیر وزیر نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے چچا علی وزیر نے اپنی اہلیہ کو ٹیلیفون پر بتایا تھا کہ انہیں جیل میں ذیابیطس کا ضروری علاج نہیں مہیا کیا جا رہا۔ خدشہ ہے کہ انہیں کسی بیماری کا شکار کر کے قتل کیا جائے گا۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن ڈاکٹر سید عالم مسعود نے بھی ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ”کورونا یا کسی اور بیماری کے بہانے علی وزیر کے قتل کی سازش رچی جا رہی ہے“۔

پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے بھی ایک بیان میں متنبہ کیا کہ اگر علی وزیر کو کچھ ہوا تو اس کے نتائج پاکستانی حکومت کے تصور سے ماورا ہونگے۔

ممبر قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سندھ حکومت کے عہدیداروں نے یقین دلایا ہے کہ علی وزیر محفوظ ہیں۔ پی ٹی ایم کے ایک رکن کو علی وزیر سے ملنے کی اجازت دی گئی ہے اور انہوں نے بتایا ہے کہ علی وزیر ٹھیک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علی وزیر اور تحریک کے دیگر گرفتار رہنماؤں کی رہائی کیلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

واضح رہے کہ علی وزیر کے خلاف پانچ ماہ قبل 7 جولائی کو کراچی کے سہراب گوٹھ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس روز پشتون تحفظ موومنٹ کے زیر اہتمام وہاں جلسہ منعقد کیا گیا تھا۔ مذکورہ ایف آئی آرمیں علی وزیر کے علاوہ منظور پشتین، محسن داوڑ، ثنا اعجاز، ڈاکٹر سید عالم مسعود، عبداللہ ننگیال اور دیگر رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں لیکن ابھی تک صرف علی وزیر کو ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

علی وزیر کی گرفتاری چند روز قبل پشاور میں عمل میں لائی گئی تھی جہاں وہ آرمی پبلک سکول پر دہشت گردانہ حملے میں مارے جانے والے بچوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شریک تھے۔ مذکورہ تقریب میں منظور پشتین، محسن داوڑ اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے تھے۔