اداریہ

نئے سال کا المناک آغاز

اداریہ جدوجہد

2 جنوری کو مچھ بلوچستان میں گیارہ محنت کش، جن کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا، اغواکے بعد انتہائی ظالمانہ انداز میں ہلاک کر دئیے گئے۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر کئے گئے اس قتل عام نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر جھنجھوڑ دیا ہے۔

اگر ایک طرف یہ قتل عام اس بات کا ثبوت ہے کہ فرقہ واریت اور مذہبی جنونیت پاکستان میں گہری جڑیں رکھتے ہیں تو دوسری طرف اس واقعہ کے بعد موجودہ حکومت کی بے حسی، نا اہلی اور سنگدلی بھی عروج پر تھی۔

ہزارہ برادری نے مقتولین کی لاشوں کو دفنانے کی بجائے، میتیں سڑک پر رکھ کر دھرنا دے دیا۔ چند سال قبل بھی انہوں نے ایک ایسا ہی دھرنا دیا تھا جس کے بعد فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ گئے اور ہزارہ برادری کی قیادت کو یقین دلایا کہ ان کی حفاظت کی جائے گی۔ کچھ سال تک ہزارہ برادری پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا۔ 2 جنوری کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر اس عارضی سکون کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

ہزارہ برادری نے بھی ایک مرتبہ پھر احتجاج کا وہی طریقہ اپنایا جس پر وہ ماضی میں عمل کرتے رہے ہیں۔ یہ کہ یہ پر امن برادری گذشتہ بیس سال سے بد ترین تشدد کا شکار ہے، شدید سردی میں جاری ان کے دھرنے نے پورے پاکستان کی ہمدردی حاصل کی۔

عوامی دباؤ کا نتیجہ تھا کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز شریف نے بھی کوئٹہ کا رخ کیا اور دھرنے میں شریک ہوئے۔ لواحقین کا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان خود کوئٹہ آ کر انہیں تحفظ کی ضمانت دیں۔

کسی نا معلوم وجہ کی بنیاد پر (اس بابت کئی طرح کی افواہیں پھیلتی رہیں) انہوں نے نہ صرف دھرنے میں شرکت سے انکار کیا بلکہ جو بیانات جاری کئے ان کی وجہ سے ان کی بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت کو ایسا دھچکہ لگا کہ اس سے سنبھلنے کے لئے شائد اب انہیں موقع نہ ملے۔

اندریں حالات، بے رحم قاتلوں کا دور دور تک پتہ نہیں۔ فرقہ واریت پر کوئی بحث نہیں ہو رہی۔ حکومتی نمائندوں نے حسب معمول ’پڑوسی ملک‘ پر ذمہ داری ڈال کر، سازشی نظریات پھیلا کر اس واقعہ پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی۔

اَسی کی دہائی سے فرقہ واریت پاکستانی معاشرے کا دیمک بن چکی ہے۔ فرقہ واریت اور مذہبی جنونیت ایک دوسرے کے کزن ہیں۔ اسَی کی دہائی سے جوں جوں بنیاد پرستی میں اضافہ ہوا، توں توں فرقہ واریت بھی پھیلی۔ بہت سے فرقہ پرست اور بنیاد پرست گروہوں کو ریاستی سرپرستی بھی حاصل رہی۔ اس کھیل کی بھاری قیمت پاکستان کے معصوم شہریوں نے ادا کی ہے۔

یہ گروہ اس قدر طاقت پکڑ چکے ہیں کہ مین سٹریم سیاسی قیادت کھل کر ان گروہوں کی مذمت تک نہیں کرتی۔ جان کے خوف سے میڈیا بھی ان کا نام نہیں لیتا۔

ترقی پسند تحریک کی راہ میں ہر وہ نظریہ جو محنت کشوں کو تقسیم کرتا ہے، ایک رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔ ان قوتوں کو شکست دینا ترقی پسند اور مزدور تحریک کا ایک اہم فریضہ ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہزارہ برادری ہو یا ظلم کا شکار ہونے والا کوئی اور گروہ، اس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ ہونا چاہئے۔

ہمارا ریاست سے بھی مطالبہ ہے کہ مسلح فرقہ پرست اور مذہبی جنونی گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے۔ 2 جنوری کو ہزارہ مزدوروں کے خون سے ہولی کھیلنے والوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اس تاثر کو ختم ہونا چاہئے کہ مذہبی جنونی قوتوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ ہر شہری کی جان کی حفاظت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔