تاریخ

چوہدری فتح محمد اور پنجاب کسان تحریک

ڈاکٹر مظہر عباس

چوہدری فتح محمد 1923ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کے قریب چاہڑ کے گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ بی اے پاس کرنے کے بعد انہوں نے برطانوی ہندوستانی فوج میں شمولیت اختیار کر لی لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد وہ فوج چھوڑ کر جالندھر واپس آ گئے جہاں انہوں نے ذاتی لائبریری قائم کی اور ساتھ ساتھ مقامی بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔

1947ء میں، تقسیم پنجاب کی بدولت، چوہدری فتح محمد اپنے خاندان سمیت مغربی پنجاب ہجرت کر گئے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب چک 305 گ ب میں آباد ہو گئے۔ ہجرت کے اس کٹھن سفر کے دوران وہ اپنے والد محترم چوہدری امیر دین کو کھو بیٹھے۔ چوہدری فتح محمد نے اپنی باقی ماندہ زندگی کسانوں کو شعور دینے اور ان کو اجاگر اور منظم کرنے کے لئے وقف کر دی۔

تقسیم پنجاب سے پہلے صوبہ بھر کے کسانوں نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف رد عمل کے طور پہ 1937ء میں پنجاب کسان سبھا کے نام سے کسانوں کی ایک تحریک شروع کی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف اس تحریک کی رکنیت میں بے پناہ اضافہ ہونے لگا بلکہ اس کی مقبولیت اور پھیلاؤ بھی بہت تیزی سے بڑھنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ قلیل میعاد میں ہی یہ تحریک زوروں پہ تھی لیکن اس تحریک کا زور اس وقت ٹوٹا جب 1947ء میں پنجاب کو مشرقی (ہندوستانی) اور مغربی (پاکستانی) پنجاب میں تقسیم کر دیا گیا جس کے نتیجے میں بہت سے متحرک غیر مسلم کارکنان اور رہنما ہجرت کر کے مغربی پنجاب سے مشرقی پنجاب چلے گئے۔

اسی لئے مغربی پنجاب میں کسان تحریک کو عملی طور پہ نئے سرے سے شروع کرنا پڑا۔ اس کام کو سر انجام دینے کے لئے اور مرکزی قیادت کے فقدان کو پورا کرنے کے لئے چوہدری فتح محمد جیسے لوگ ابھر کر سامنے آئے۔ انہوں نے جنوبی پنجاب بالخصوص ملتان اور منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کے کسانوں کے بلند کیے ہوئے نعروں (جیسا کہ ’بنّے اتے ادھو ادھ‘، ’فصل کی مساوی بنیادوں پہ تقسیم‘، ’بیگار کا خاتمہ‘ اور ’غیر قانونی کٹوتی کا خاتمہ‘) کو مزید تقویت دی اور ساتھ ساتھ کسانوں کو متحرک اور منظم کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔

جلد ہی چوہدی فتح محمد کو اپنے گاؤں 305 گ ب کانمبردار منتخب کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ والے گاؤں -405گ ب کے کسان کارکنوں نے 28 مارچ 1948ء کو گاؤں کی سطح پہ کسان کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں چوہدری فتح محمد اپنے چھوٹے بھائی کی اچانک موت کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکے تھے۔ تاہم، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے اس وقت کے ضلع لائل پورکے سیکرٹری جنرل، ڈاکٹر محمد عبد اللہ، سے متاثر ہوکر انہوں نے سال کے آخر تک پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔

لائل پور کسان کمیٹی نے ضلعی سطح پراپنی پہلی کسان کانفرنس کا انعقاد 2 اپریل 1950ء کو چک 242 گ ب میں کیا۔ اس کانفرنس میں فتح محمد پردھان کو لائل پور کسان کمیٹی کا صدر اور چوہدری فتح محمد کو سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔ اس کے بعد کسان کانفرنسوں کا ایک طویل اور موثر سلسلہ شروع ہوا۔

1970ء کی تاریخ ساز ٹوبہ ٹیک سنگھ کسان کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی جو کہ چوہدری فتح محمد اور ان کے ساتھیوں نے 23 مارچ 1970ء کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقد کروائی تھی۔ تاریخ دانوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ کا اب تک کا کسانوں کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کانفرنس میں تقریباً سات لاکھ کسانوں نے شرکت کی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا عبدالحمید بھاشانی، فیض احمد فیض اور طارق عزیز جیسی قد آور اور اہم شخصیات نے کسانوں کے اس اجتماع سے خطابات کئے تھے۔ اس تاریخ ساز کانفرنس کا نعرہ تھا: چلو چلو، ٹوبہ ٹیک سنگھ چلو۔ یہ نعرہ اس قدر مقبول ہوا کہ اب بھی پورے ملک کی سیاسی اور سماجی پارٹیاں اس کو تھوڑی بہت رد و بدل کے ساتھ استعمال کرتی ہیں۔

دائیں بازو کی اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے کسانوں کے اس اجتماع اور اس کے منتظمین کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مثال کے طور پہ اس کانفرنس کو کافروں کا اجتماع اور اس کے منتظمین کو غیرمسلم قرار دینے کے لئے کافی تگ و دو کی گئی۔ حتیٰ کہ فتوے بھی دئیے گئے۔

اس منفی پروپیگنڈا کے باوجود یہ کانفرنس انتہائی کامیاب رہی۔ ایک طرف اس کانفرنس نے کسانوں اور دوسرے محنت کش طبقے میں نہ صرف شعور پیدا کیا بلکہ ان کو اجاگر اور متحرک کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔ دوسری طرف اس کانفرنس اور اس جیسی ہونے والے متعدد کانفرنسوں کی وجہ سے ہی دائیں بازو کی مذہبی و سیاسی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی (بانی مولانا مودودی) نے زرعی زمینی اصلاحات کو اپنے منشور اور الیکشن مہم کا حصہ بنایا تھا۔ یاد رہے مولانا مودودی زرعی اصلاحات کے مخالفین میں سے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے 1950ء کی دہائی میں ایک کتابچہ (مسئلہ ملکیت زمین) بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے زرعی زمینی اصلاحات کو غیر اسلامی قرار دینے کی کوشش کی تھی۔

علاوہ ازیں یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پنجاب میں ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی کی جیت کا سہرہ بھی پنجاب کسان کمیٹی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخی کانفرنس کے سر ہے۔ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ کسان کمیٹی نے کسانوں، محنت کشوں اور طلبہ کو متحرک کرنے میں اہم کردار تو ضرور ادا کیا لیکن خود الیکشن لڑنے کے بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کا فیصلہ کیا لہٰذا اس کا اصل فائدہ بھٹو کی پیپلز پارٹی کو ہوا جس نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد، اپنے وعدے کا مطابق، زمینی اصلاحات متعارف کروائیں۔ گو کہ ان کے نتائج متنازعہ اور بحث طلب ہیں۔

بات صرف یہاں پہ نہیں رکتی بلکہ ایک انٹرویو کے دوران (جو کہ میں نے 22 فروری 2019ء کو کیا تھا) چوہدری فتح محمد نے دعویٰ کیا کہ ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کا نعرہ اصل میں پیپلز پارٹی کا نعرہ نہیں ہے بلکہ یہ نعرہ پنجاب کسان کمیٹی نے بلند کیا تھا جو بعد میں پیپلز پارٹی نے نہ صرف اپنایا بلکہ اپنی الیکشن مہم کا اہم حصہ بھی بنایا۔

ان کے علاوہ بہت سی دوسری بھی کامیابیاں ہیں جن کا سہرا پنجاب کسان تحریک اپنے سر لینے کا دعویٰ کرتی ہے۔ مثال کے طور پر سرکاری زمینوں پر کام کرنے والے کسانوں کو ملکیت کا حق دلوانا، غیر قانونی کٹوتیوں اور بیگار کا خاتمہ، جاگیرداری اور زمینداری کا جزوی خاتمہ، سرکاری اراضی کی نیلامی کی عارضی روک تھام اور چھوٹے چھوٹے زمینداروں کو اراضی محصول اور واٹر ٹیکس پر چھوٹ۔

تاہم پنجاب کسان تحریک کی ان کامیابیوں کے تمام تر دعوؤں کے باوجود چوہدری فتح محمد کا ماننا ہے کہ یہ تحریک کسانوں کے زمینداروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں استحصال کی روک تھام کرنے اور کسانوں کو مکمل طور پہ آزاد کروانے میں ناکام رہی ہے۔

کسان اپنا آخری مقصد یعنی آزادی اور خود مختاری کیوں نہیں حاصل کر سکے؟ اس کا ایک ممکنہ جواب کسان قیادت کے درمیان دھڑے بندیاں اور ریاست کی جابرانہ پالیسیاں ہیں۔ ان جابرانہ ریاستی پالیسیوں میں 1951ء کی راولپنڈی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں کسان کمیٹی کے رہنماؤں کو قید کرنا، 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور پنجاب کسان کمیٹی پہ مکمل طور پر پابندی عائد کرنا، 1958ء میں مارشل لا کے بعد تمام سیاسی و سماجی سرگرمیوں پہ پابندی لگانا اور مارچ 1969ء سے دسمبر 1971ء تک کسان کمیٹیوں کی سرگرمیوں پہ پابندی عائد کرنا شامل ہیں۔ ریاستی جبر کی حد کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ چوہدری فتح محمد نے اپنی زندگی کے تقریباً 18 سال قید میں گزارے۔ ان کی سوانح عمری، جو ہم پہ گزری، ان مظالم کا ایک واضح احوال پیش کرتی ہے جس کا انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس لیے کہا جاتا ہے کہ چوہدری فتح محمد نے نہ صرف زرعی مسائل کے بارے میں بات کی، بلکہ کسانوں کو اجاگر اور متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی کاوشوں اور خدمات کی وجہ سے ان کو بالعموم پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں کسانوں کی متحرک مہم چلانے والا مخلص اور بہترین رہنما بھی کہا جاتا ہے۔

سات دہائیوں پر محیط کسانوں کے حقوق کے لئے چوہدری فتح محمد کی جدوجہد کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ 25 مئی 2020ء کو اپنے آبائی شہر میں انتقال کر گئے۔

Dr. Mazhar Abbas

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔