پاکستان

سانحہ مچھ اور فرقہ واریت کی ایک نئی لہر

ایوب ملک

پچھلے دنوں بلوچستان کے علاقے مچھ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا ایک ہولناک سانحہ ہوا جس میں بیس سے پچیس دہشت گردوں نے ہزارہ برادری کے گیارہ کان کنوں کو اسلحے کے زور پر ہاتھ پاؤں باندھ کر نہایت بے دردی سے ذبح کر دیا۔ اس ہولناک واردات میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل تھے جن کی میتوں کو کندھا دینے والا اس خاندان میں ایک بھی مرد نہیں بچا۔

عسکریت پسند گروہ داعش نے اس انسانیت سوز واقعہ کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔ اس سے پہلے طالبان، جیش اور دوسرے گروپوں نے بھی ایسی وارداتوں کا ارتکاب کیا ہے۔ دہشت گردی اور فرقہ واریت آج پاکستانی معاشرے کا سب سے اہم مسئلہ ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہی فرقہ وارانہ جھگڑے ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، ترکی جیسے اسلامی ملکوں میں کیو ں نہیں ہوتے؟

یاد رہے کہ 1953ء میں مسلم لیگی راہنما ممتاز دولتانہ نے بھی اسی قسم کے فسادات کروائے تھے جس کی پوری رپورٹ’منیر انکوئری‘ میں موجود ہے۔ جسٹس منیر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ یہ فسادات خواجہ ناظم الدین کی پوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے کرائے گئے تھے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے حکمرانوں نے اپنی روش نہیں بدلی اور اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ہر قسم کے کھلواڑ کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ ان فرقہ وارانہ فسادات سے سماج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے!

ایوب خان کے زمانے میں اقتدار کو طول دینے کیلئے ایک نئی تاویل کی ضرورت پیش آ گئی۔ اس ضرورت کو غلام احمد پرویز نے اپنی تاویلات سے پورا کرنے کی کوشش کی جس نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو متاثر کیا۔ ضیا الحق نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے بہت سی فرقہ وارانہ، لسانی اور نسلی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کی جس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے میں کلاشنکوف کلچر، منشیات کا استعمال، فرقہ وارانہ تعصب، لسانی اور نسلی فسادات اور اظہار رائے پر پابندی جیسے اقدامات نے پاکستانی سماج کو اندر سے کھوکھلا کر نا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں ایسا تعلیمی نظام ابھر کر آیا جس نے تنگ نظری اور متشدد نسل کو جنم دیا۔

اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ 2017ء میں ایک ایسے فرقہ کو سیاسی طور پر منظم کیا گیا جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں پہلے کبھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ اس مکتبہ فکر کے مسلک کا وصف یہ رہا ہے کہ انہوں نے ہندوستانی معاشرے میں تمام روایات، رسم و رواج مثلاً پیر پرستی، مزاروں کا احترام، اولیا کرام کا عرس، میلاد شریف کی محافل، فاتحہ خوانی، چہلم کی رسومات اور نعت گوئی کو اپنا لیا جو گزرتے وقت کے ساتھ ہندوستانی معاشرے میں رائج ہو رہی تھیں۔ انکا خیال یہ ہے کہ یہ روحانی سرگرمیاں ہیں جن کی بدولت زندگی میں توانائی آتی ہے۔ انگریز کی حکمرانی کے باوجود اس فرقے نے ہندوستان سے نہ صرف ہجرت اور جہاد سے کنارہ کشی رکھی بلکہ انہوں نے ہندوستان کو دار الامان قرار دیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمتیں بھی اختیار کیں اور مسلمانوں کو انگریزی سیکھنے کی اجازت بھی دی۔ اس مسلک میں خواجہ نظام الدین اولیا جیسے بزرگوں کی فکر بھی شامل ہے لیکن آخر کار پاکستانی حکمرانوں نے اس فرقے کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

اس کا اصل مقصد دائیں بازوں کے ووٹوں کو تقسیم کرناتھا تاکہ مسلم لیگ نواز 2018ء کے الیکشن نہ جیت سکے۔ صرف لاہور کی 14 قومی اسمبلی کی نشستوں پر اس پارٹی نے مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ مجموعی طور پر ملک میں اس پارٹی نے اکیس لاکھ، نوے ہزار ووٹ حاصل کئے جو کہ تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل کے بعد سب سے زیادہ ووٹ تھے۔

اسی پارٹی نے فیض آباد معاہدے میں ایک خطرناک شق بھی شامل کروائی جس کا مقصد نصاب پر نظر ثانی کروانا تھا جو ہمارے معاشرے میں مزید خلفشار کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی جس کے نتیجے میں دوسرے مکاتب فکر بھی اپنی اپنی تاویلیں دینے لگے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسی دور میں حکمرانوں نے دوسری تنظیموں کو بھی قومی دھارے میں لانے کیلئے ان سے رفاہ عامہ اور خدمت انسانی کا کام لینا بھی شروع کر دیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں بھی حکمرانوں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنی سیاسی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پورے سماج کو گھپ اندھیرے میں جھونک دیا جس کی وجہ سے آج ہمیں سانحہ مچھ دیکھنے کو ملا۔

قرون وسطیٰ کے یورپ پربھی چرچ کا مکمل غلبہ تھا لیکن رینی ساں کے یورپ میں آہستہ آہستہ ایک ایسے انسان کی ارتقا پذیر شکل سامنے آتی ہے جو نہ صرف دنیا کو تبدیل کرتا ہے بلکہ اس کا یہ عمل چرچ کے زیر اثربھی نہیں رہتا۔ یوں سماج میں فرد کی اہمیت اسکے تعلیم یافتہ ہونے سے وابستہ ہو گئی نہ کہ خاندان اور پیدائش کی اہمیت کی وجہ سے جو کہ قرون وسطیٰ کا شیوہ تھا۔

چھاپہ خانے کی ایجاد سے کتابیں عام لوگوں تک پہنچنے لگیں اور یونان اور روم کے قدیم مصنفوں کی کتابوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ تحقیق کی جستجو نے فطرت کو دریافت کرنا شروع کر دیا اور سائنس دانوں اور مفکرین نے کائنات کوو سیع تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا جس نے یورپ کو قرون وسطی کے اندھیروں اور چرچ کی بالا دستی سے آزاد کیا۔ آج کے پاکستانی معاشرے میں بھی رینی ساں کی ضرورت ہے تاکہ ایسا ماحول پیدا کیا جا سکے جس میں نئی سائنسی تحقیق کا دور دورہ ہو، جس میں مصوری، رقص، موسیقی اورمجسمہ سازی کے فنون پروان چڑھیں اور سماج میں نئی ثقافتی اور اخلاقی قدریں نئے زمانوں کی دریافتوں کے ساتھ ساتھ اکیسویں صدی کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔

تاریخ کے اس ارتقائی عمل سے ہمارے ارباب اختیار کو یہ سبق توضرور حاصل کرنا چاہیے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عقائد کو سیاسی ایجنڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے کیونکہ یہ ملک مزید عسکری لشکروں کو پروان چڑھانے کامتحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے عقل کے ناخن نہ لئے تو ہم مزید اس دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے جس کی ساری ذمہ داری حکمرانوں اور ریاستی اداروں پر ہو گی۔

فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کو جب ریاست کی پشت پناہی حاصل نہیں ہوتی تو یہ دم توڑنے لگتی ہے۔ جن ریاستو ں میں سیاست و عقائد جدا ہوں وہاں عقائد بھی سیاست کی قید سے آزاد ہو کر سماج کو اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی عقیدہ، سیاست کے زیر اثر ہوتا ہے تو اقتدار کی منشا کے مطابق خود کو ڈھال لیتا ہے۔ ترقی، نشوونما، استحکام اور اپنی تخلیقی قوتوں کو بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ عقائد حکمرانوں اور اشرافیہ کے تسلط سے آزاد ہوں اور یہی سبق اکیسویں صدی میں پاکستان کو ایک جدید ریاست بنا سکتا ہے۔

Ayub Malik

ایوب ملک ترقی پسند سیاست کرنے والے ایک سیاسی کارکن، ناشر اور کالم نگار ہیں۔ ان کے کالم روزنامہ جنگ میں بھی شائع ہوتے ہیں۔