خبریں/تبصرے

پاکستان میں اختلاف رکھنے والوں پر عرصہ حیات تنگ: ہیومن رائٹس واچ

لاہور (نامہ نگار) ہیومن رائٹس واچ نے نئے سال کی عالمی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے 2020ء میں میڈیا، سیاسی مخالفین ا ور سول سوسائٹی کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے سرکاری پالیسیوں پر تنقید کرنے پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں کیں۔ احتساب بیورو کو سیاسی مخالفین اور حکومت کے ناقدین کو حراست میں لینے کیلئے استعمال کیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا تھا کہ ”سیاسی مخالفین اور آزادانہ رائے رکھنے والوں پر حملوں نے ملک کو ایک خطرناک راستے پر ڈال دیا ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے والے حزب اختلاف کے رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کو دھمکیاں دینا جمہوریت نہیں بلکہ آمرانہ حکمرانی کی ایک خاص علامت ہے۔“

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کی گئی 761 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ تنظیم کا 31 واں ایڈیشن ہے۔ اس رپورٹ میں 100 سے زائد ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے اپنے ابتدائی مضمون میں کہا کہ ”امریکا کی آئندہ انتظامیہ کو ملک کی اندرونی اور خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانا ہو گا۔ مستقبل میں انسانی حقوق کی پاسداری کے بغیر امریکی انتظامیہ کی بقا ممکن نہیں ہے۔ جب بھی ٹرمپ انتظامیہ نے انسانی حقوق کے تحفظ کو ترک کیا دیگر حکومتیں انسانی حقوق کے دفاع کیلئے آگے بڑھیں۔ بائیڈن انتظامیہ کو اس نئی اجتماعی کوشش میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔“

رپورٹ کے مطابق 2020ء میں پاکستان کے احمدیہ مذہبی اقلیت کے خلاف تشدد کی شدت میں اضافہ ہوا۔ توہین مذہب کے مبینہ واقعات میں کم از کم 4 احمدی ہلاک ہوئے۔ طاہر نسیم احمد بھی ان میں شامل تھے جن پر توہین رسالت کے الزامات تھے، انہیں 2018ء میں گرفتار کیا گیا اور ایک حملہ آور نے جولائی میں انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ پاکستانی حکومت توہین مذہب کے قانون کی دفعات میں ترمیم یا تنسیخ کرنے میں بھی ناکام رہی جس کے سبب مذہبی اقلیتوں کو من مانی گرفتاریوں اور قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے خلاف تشدد کو فروغ ملا۔

رپورٹ میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والی خواتین صحافیوں اور مبصرین کے خلاف موت اور عصمت دری کی دھمکیوں سمیت سوشل میڈیا مہم کی مذمت کی گئی۔

رپورٹ میں سی سی پی او لاہور کے بیان کا تذکرہ بھی کیا گیا جس میں انہوں نے پنجاب کی ایک شاہراہ پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی عورت سے متعلق کہا تھا کہ اس کی اپنی غلطی ہے، اسے رات گئے موٹروے پر اپنے شوہر کے بغیر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے کیسز کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔ مکمل اور جزوی لاک ڈاؤن کا خواتین کارکنوں خصوصاً گھریلوں ملازمین پر سخت اثر پڑا۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے تنخواہوں کو یقینی بنانے کیلئے کچھ اقدامات کئے جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں کوئی اقدامات نہ ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں جنوری تا مارچ 2020ء کے دوران گھریلو تشدد کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہوا اور مارچ کے بعد کورونا لاک ڈاؤن کے دوران حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔