تاریخ

66 ویں برسی پر منٹو کا عالم بالا سے خط

سعادت حسن منٹو مرحوم

میں سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو پنجاب کے ضلع لدھیانہ کے ایک مقام سمبرالہ میں پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے لئے امرتسر کے مسلم ہائی سکول میں مجھے داخل کروایا گیا۔ تعلیمی نظام مجھے متاثر نہ کر سکا اس لئے میٹرک میں دو دفعہ فیل ہونے کے بعد تیسری کوشش میں جا کر پاس ہوا۔ پھر امرتسر کے ہندو مہا سبھا کالج میں ایف اے میں دو مرتبہ فیل ہونے کا شرف حاصل کیا۔ چند مہینے علی گڑھ یونیورسٹی میں بھی گزارے مگر وہ ڈگری کبھی بھی حاصل نہیں کر سکا جو مشرف دور میں رکن پارلیمنٹ بننے کے لئے ضروری قرار دی گئی تھی۔

ویسے میری پاس کوئی ڈگری تھی یا نہیں، اردو ادب کا عظیم ترین ادیب مجھے ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نو آبادیاتی دور میں انگریز سرکار نے پسند کیا نہ ہی آزاد ریاست پاکستان کی حکومت نے۔

مجھ پر مقدمے چلائے گئے۔ مجھے نفسیاتی طور پر کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی گئی۔ سماجی اور معاشی حالات نے میری کمر توڑ دی مگر میرے قلم کے ٹکڑے کرنے میں کوئی بھی کامیاب نہ ہوا۔

سمبرالہ سے لاہور تک کے 43 سالہ سفر نے جب مجھے اتنا تھکا دیا کہ سانس لینے کی بھی ہمت نہ رہی تو 18 جنوری 1955ء کو مجھے مردہ قرار دے کر لاہور کے قبرستان میانی صاحب میں منوں مٹی کے نیچے دفنا کر یہ سمجھا گیا کہ میں ہمیشہ کے لئے مر گیا ہوں…مگر میں کبھی مرا تھا اور نہ ہی کبھی مروں گا۔

اگر میں مر گیا ہوتا تو’روزنامہ جدوجہد‘ والے آج منٹو ایڈیشن شائع نہ کرتے۔ میں ’جدوجہد‘ والوں کو نہ جانتا ہوں اور نہ ہی ان سے متعلق کبھی سنا ہے مگر اتنا ضرور جانتا ہوں کہ یہ لوگ حکومت کے طرف دار نہیں اور اظہار رائے کے لئے مصروف جدوجہد ہیں۔ اس لئے میں نے انہیں منٹو ایڈیشن نکالنے کی اخلاقاً اجازت دے دی ہے۔

آپ سے صرف یہی کہوں گا کہ یہ منٹو ایڈیشن بھی پڑھئے بلکہ اس کے متعلق گفت و شنید بھی کیجئے تا کہ سوچ کا عمل وسیع ہو۔ اور کچھ زیادہ کہنا نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ منوں مٹی کے نیچے خوش ہوں۔ محض اس لئے نہیں کہ میں حرف مکرر ثابت نہیں ہوا۔ اس لئے بھی خوش ہوں کہ پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے ابھی تک آئین میں کوئی ایسی ترمیم نہیں کی جس کے تحت منٹو ایڈیشن شائع کرنے کی فحش گستاخی ممنوع ہو۔

(2005ء میں ٹونی عثمان کی ادارت میں سعادت حسن منٹو کی پچاسویں برسی پر ہفت روزہ ’مزدور جدوجہد‘ کاخصوصی ’منٹو نمبر‘شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون مذکورہ ’منٹو نمبر‘ میں شائع ہونے والے تعارف نامے کی بہ روز شدہ شکل ہے۔)