تاریخ

امجد شہسوار ایک عملی کردار کا نام ہے

نوید الحسن

ملائشیا میں جلا وطنی کی زندگی گزارنے والے انقلابی نوجوان، جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی صدر کامریڈ امجد شہسوار کی اچانک موت نے کشمیر و پاکستان سمیت دنیا بھر میں جدوجہد سے وابسطہ انقلابی نوجوانوں اور محنت کشوں کو سوگوار کر دیا ہے۔

میری اس با ہمت نوجوان سے ملاقات ملائیشین بائیں بازو کی ایک سیاسی جماعت ’پارٹی سوشلسٹ ملائشیا‘ کی یکم مئی کی ایک مزدور ریلی میں ہوئی جہاں مجھے جموں کشمیرنیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے انقلابی ساتھی کامریڈ خلیق ارشاد اور کامریڈ امجد شہسوار ملے۔

پہلی ہی ملاقات میں درینہ ساتھی محسوس ہوئے اور مختصر عرصے میں ہمارا محبت اور احترام کا رشتہ بہت مضبوط ہو گیا۔ ہم اکثر رات کو دوسرے کے ہاں قیام کرتے اور سیر حاصل سیاسی اور نظریاتی گفتگو ہوتی اور بہت کچھ سیکھنے کو ملتا۔ کامریڈ کو میں نے نہایت بہادر اور کھرا انسان پایا جو محنت اور جدوجہد پر یقین رکھتا تھا۔

ملائشیا میں جلا وطنی کی زندگی کوئی آسان کام نہیں مگر ہم نے کبھی کامریڈ کو مایوس نہ پایا، یہاں تک کہ ملائشیا کی جیل بھی اس مضبوط انسان کو نہ توڑ سکی۔ جیل کے اندر ان پر تشدد کیا گیا۔ نہایت بے باک، نڈر اور نظریاتی کمٹٹڈ انسان تھا۔

یہاں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر کبھی کوئی مشکل انکا حوصلہ نہ توڑ سکی۔ کامریڈ امجد جدوجہد پر پختہ یقین رکھتے تھے اور محنت کشوں اور پناہ گزینوں کے حقوق کیلئے اپنا کردار بھی ادا کرتے تھے۔

ابھی چند ماہ پہلے ہی ایک پاکستانی بزرگ پناہ گزین گرفتار ہو گئے تو سب سے پہلے اسکی رہائی کیلئے آواز اٹھانے والا یہی درد دل رکھنے والا اور انسانیت سے محبت کرنے والا نوجوان امجد شہسوار ہی تھا۔ اس نے ایک کمیٹی بنا کر انکی رہائی کیلئے جدوجہد شروع کر دی تھی۔ اتفاق سے وہ بزرگ 22 جنوری کو یہاں سے ڈی پورٹ کردیے جائیں گے اور اسی 22 جنوری کوہمارے کامریڈ امجد شہسوار کا جسد خاکی بھی ساتھ جا رہا ہے۔

کامریڈ امجد نے آخری سانس تک محنت کش طبقے کیلئے عملی جدوجہد کی۔ وہ ہمیشہ پر امید اور پر جوش طریقے سے محنت کشوں کے مسائل کیخلاف لڑتے رہے۔

کامریڈ امجد ہمیں دکھی کرگیا مگر ان کا عملی کردار ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انکی جدوجہد کو جاری رکھنے کے عزم کیساتھ کامریڈ کی جدوجہد کو ہم سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم کامریڈ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔