پاکستان

نجکاری نا منظور: 15 فروری کو ڈی چوک اسلام آباد میں تاریخی احتجاج ہو گا

حارث قدیر

ملک بھر کی درجنوں ٹریڈ یونینوں، ملازم تنظیموں اور پنشنرز کی تنظیموں کے اتحاد ’آل پاکستان ایمپلائز پنشنرز اینڈ لیبر تحریک‘ نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سامراجی پالیسیوں اور نجکاری کے خلاف 15 فروری کو ڈی چوک اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کر دیا ہے۔

تحریک کی جانب سے 15 رکنی چارٹرڈ آف ڈیمانڈ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں کمی یا اضافے کا منصوبہ، پنشن مراعات میں رد و بدل اور پنشن فنڈ کی نجکاری کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

عوامی اداروں بالخصوص او جی ڈی سی ایل، واپڈا، ریلوے، اسٹیل ملز، سول ایوی ایشن اتھارٹی، ہاؤس فنانس کارپوریشن اور دیگر اداروں کی نجکاری پالیسی فوری منسوخ کی جائے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے۔ پی ٹی ڈی سی، ریڈیو پاکستان، بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اسٹیل ملز، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اور دیگر اداروں سے جبری برطرفیوں کا خاتمہ کر کے ملازمین کو فوری بحال کیا جائے۔

ایم ٹی آئی، پی ایم سی، لازمی سروسز ایکٹ جیسے عوام دشمن قوانین کو منسوخ کیا جائے۔ ایڈہاک ریلیف کو بنیادی تنخواہوں میں ضم کیا جائے۔ ملازمین کے ہاؤس رینٹ، میڈیکل الاؤنس، کنونس الاؤنس، یوٹیلٹی الاؤنس میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔

پی ٹی سی ایل پنشنرز کے 2010ء کے غصب شدہ اضافہ جات، الاؤنسز اور حکومت پاکستان کی طرف سے اعلان کردہ تمام مراعات دی جائیں۔

ملک بھر کے کلاس فورملازمین کو 5 گریڈ دیا جائے۔ بجلی کمپنیوں کی تحلیل اور واپڈا کو اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ مزدوروں کی کم از کم اجرت 30 ہزار روپے کی جائے۔ ملک بھر میں کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کیا جائے نیز تھرڈ پارٹی سسٹم ختم کیا جائے۔ پروموشن کے پرانے نظام کو ختم کر کے ٹائم سکیل پروموشن کا نظام رائج کیا جائے۔ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو تحلیل کر کے میونسپل کارپوریشن کا پرانا نظام رائج کیا جائے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔