تاریخ

بائیں بازو کا زمیندار

ڈاکٹر مظہر عباس

میاں افتخار الدین، آکسفورڈ یونیورسٹی انگلینڈ سے فارغ التحصیل تھے۔ وہ باغبان پورہ لاہور کے با اثر زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ نواب افتخار حسین ممدوٹ کے دورِ حکومت میں مہاجرین کی بحالی کے پہلے وزیر تھے۔ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق کے باوجود وہ ترقی پسند نظریات کے حامل تھے۔ انہوں نے زرعی اصلاحات اور زرعی انکم ٹیکس کی تجاویز پیش کیں اور اپنے ترقی پسند اخبارات (پروگریسو پریس) میں کسانوں اور مزدوروں کے حق میں کھل کے لکھا۔

گو میاں افتخارالدین نے 1934ء میں، جب کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کو جاگیرداروں اور فرقہ پرستوں کی پارٹی کے طور پر دیکھتے تھے، انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیارکر کے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا، لیکن 1945ء میں انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی مسلم لیگ سے کر لی۔

کامران اسد علی اور سبط حسن کا کہنا ہے کہ میاں افتخار الدین نے اپنے ایک دوست، سجاد ظہیر، کے مشورہ پہ اپنی سیاسی وابستگی انڈین نیشنل کانگریس سے آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف تبدیل کی۔ سجاد ظہیر چاہتے تھے کہ 1946ء کے الیکشن سے پہلے میاں افتخار الدین مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر کے وہاں ترقی پسند عناصر کے لئے نہ صرف جگہ بنائیں بلکہ ان کے لئے آواز بھی اٹھائیں۔

میاں افتخار الدین نے سجاد ظہیر کی بات کو اس وقت درست ثابت کیا جب انہوں نے نواب افتخار حسین ممدوٹ کی پنجاب حکومت میں مہاجرین کی بحالی کے وزیر ہونے کی حیثیت سے زرعی اصلاحات کی تجاویز پیش کیں تا کہ لاکھوں منتظر کسان مہاجرین کو بحال اور آباد کیا جا سکے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ معاشرتی و معاشی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں بحالی و آبادکاری تقریباً ناممکن تھی کیونکہ یہ تبدیلیاں ایک طرف مہاجرین کی بحالی اور آبادکاری کو یقینی بنائیں گی جبکہ دوسری طرف نئی تشکیل دی گئی ریاست کی معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لئے بھی معاون ثابت ہوں گی۔ انہوں نے استدلال کیا کہ زمینداروں اور صنعت کاروں کو قربانیاں دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پناہ گزینوں کے خاندانوں میں انخلا کی جائیداد کو اْن کی ہجرت سے پہلے کی سماجی و معاشی حیثیت کی بجائے ان کی ضروریات کے مطابق تقسیم کیا جائے اور مہاجرین کی اطمینان بخش آباد کاری صوبے کے سماجی و معاشی نظام میں زرعی اراضی کی تقسیم کے حوالے سے بنیادی تبدیلیوں کے بغیر ناممکن ہے۔

اس کے لئے انہوں نے مندرجہ ذیل مخصوص تجاویز پیش کیں:

(ا) مشرقی پنجاب سے بے زمین مہاجرین کو کاشتکاری کے لئے زمینیں الاٹ کی جائیں۔
(ب) بٹائی کو ریگولرائز کیا جائے۔
(ج) مضارعوں کے دور کی نہ صرف مدت کا تعین کیا جائے بلکہ اسکا دفاع بھی کیا جائے اور زمین سے ان کے اخراج کو روکا جائے۔
(د) بیگار کو کالعدم قرار دیا جائے۔
(ر) ریاست کو چاہئے کہ 5,000 پیداواری یونٹ سے زائد (جو کہ تقریباً 50 ایکڑ زمین بنتی ہے) زمین کو بغیر معاوضے حاصل کرے۔
(س) حاصل شدہ اراضی کو بے زمین مضارعوں میں مفت تقسیم کیا جائے۔
(ہ) کسی کو بھی کھیتی باڑی کے لئے بقا انعقاد سے زیادہ (جو اس وقت پنجاب میں ساڑھے بارہ ایکڑ تھی) زمین نہ دی جائے۔
(پ) سرکاری اراضی کو نیلام کرنے کے بجائے بے زمین مضارعوں اور چھوٹے کاشتکاروں کو آسان اقساط میں الاٹ کیا جائے۔
(ع) 25 ایکڑ سے زیادہ اراضی یا سالانہ 15,000 روپے سے زیادہ آمدنی پر زرعی انکم ٹیکس لگایا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ میاں افتخار الدین نے ممدوٹ اور ان کے لواحقین اور اتحادیوں کو انخلا کی گئی جائیداد کی الاٹمنٹ پر نہ صرف روشنی ڈالی بلکہ مخالفت بھی کی۔ انہوں نے ممدوٹ پر یہ الزام لگایا کہ اس نے اپنی طاقت اور پوزیشن کا استعمال کرتے ہوئے 2000 ایکڑ انخلا کی گئی زرعی اراضی کو بہت ہی کم قیمت پہ حاصل کیا تھا۔ اور اس پر یہ بھی الزام لگایا کہ اس نے اپنے بھائی کو سینکڑوں ایکڑ انخلا کی گئی زرعی اراضی الاٹ کی تھی اور اپنے رشتہ داروں اور اتحادیوں کو ریاست یا انخلا کی گئی زمینیں حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔

زرعی اصلاحات کے لئے میاں افتخارالدین کی تجاویز کو زمیندار اشرافیہ کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلکہ ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے غیر مسلم ہونے کی وجہ سے یہ’غیر اسلامی‘ تجاویز پیش کیں۔ تنقید اور الزامات کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ انہیں نہ صرف کابینہ بلکہ مسلم لیگ سے بھی استعفیٰ دینا پڑا۔ انہوں نے اپنے استعفیٰ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا تھا: ”مجھے یقین تھا کہ بڑے بڑے زمیندار نہ مجھے زرعی ٹیکس عائد کرنے دیں گے اورنہ ہی کسی قسم کی اصلاحات متعارف کروانے دیں گے“۔ اسی لئے انہوں نے استعفیٰ دینا ہی مناسب سمجھا۔ آخر کار زمیندار اشرافیہ کی جیت ہوئی جبکہ اس کی مخالفت کرنے والے ہار گئے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ریاست کو اپنا اختیار قائم کرنے اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کے لئے زمیندار اشرافیہ کی مدد لینی پڑی جس کے بدلے میں ریاست نے اپنی پالیسیوں میں زمینداروں اور جاگیرداروں کی حمایت کا عہد کیا۔ مثال کے طور پہ زرعی زمین کے متعلق مطالبات اور سفارشات کو مختلف حیلے بہانوں سے یا تو التوا میں ڈال دیا یا پھر مستقل طور پہ روک دیا۔ استدلال یہ کیا گیا کہ زرعی اصلاحات کے زیادہ تر حمایتی شہر کے باشندے ہیں جن کے پاس زراعت کے بارے میں ٹھیک معلومات بھی نہیں ہیں۔

افتخارالدین نے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ بھی قائم کیا جس نے قائداعظم کی سرپرستی میں ’دی پاکستان ٹائمز‘ اور بعد میں ’امروز‘، اور’لیل و النہار‘ شائع کرنا شروع کیا۔ پاکستان ٹائمز کا آغاز فروری 1947ء میں مسلم لیگ کے مقصد کو، خاص طور پر پنجاب میں، فروغ دینے کے لئے کیا گیا تھا۔ فیض احمد فیض اس کے پہلے ایڈیٹر تھے۔ اس نے 1949ء سے 1952ء کے دوران پریوینٹو ڈیٹینشن (حراستی) قوانین کی لگاتار مخالفت کی اور مزدوروں کے حقوق اور زمینی اصلاحات کے لئے مطالبات کئے۔ اس طرح کے مطالبات اور پالیسی کی وجہ سے یہ اخبارقلیل مدت میں اپنے پڑھنے والوں میں مقبول ہو گیا، جبکہ اس کے برعکس اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں مشکوک ہو گیا۔ اسی لئے 18 اپریل 1959ء کو ایوب خان کی مارشل لا حکومت نے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر قبضہ کر لیا۔

افتخارالدین کا انتقال 6 جون 1962ء کو عارضہ قلب کے باعث ہوا۔ انہیں لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی غریبوں، مضارعوں اور مزدوروں کے ساتھ وابستگی کو فیض احمد فیض نے ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا: ”جو رکے تو کوہ گران تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے“۔

Dr. Mazhar Abbas

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔