خبریں/تبصرے

ایسٹونیا: ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیراعظم کی قیادت میں حکومت بنے گی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) ایسٹونیا کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اتوار کے روز ایک نئی حکومت بنانے کیلئے معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت بالٹک ریاست کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون وزیراعظم کی سربراہی میں حکومت قائم کی جائیگی، جو رواں ماہ کے آغاز میں بدعنوانی کے اسکینڈل کی وجہ سے گرنے والی سابق حکومت کی جگہ لے گی۔

حزب اختلاف کی ’سینٹر رائٹ ریفارم پارٹی‘ اور حکمران’لیفٹ لیننگ سنٹر پارٹی‘ کی کونسلوں نے ریفارمز پارٹی کی نامزد کردہ وزیراعظم ’کجا کالاس‘ کی سربراہی میں کابینہ میں شامل ہونے کے حق میں ووٹ دیا۔

دونوں جماعتوں کے پاس 15 رکنی حکومت میں وزیراعظم کے عہدے کے علاوہ سات وزارتی قلمدان رکھے جائیں گے جو 101 نشستوں والی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کریں گے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ریفارم پارٹی اور سنٹرپارٹی کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ”ایک ایسی حکومت بنائی جائیگی جو کورونا وائرس بحران کو موثر طریقے سے حل کریگی، ایسٹونیا کے آگے لے جائے گی اور ہمارے ملک کے تمام علاقوں اور خطوں کی ترقی کریگی۔“

43 سالہ قانون ساز 1.3 ملین آبادی پر مشتمل بالٹک قوم کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں گی، ایسٹونیا نے 1991ء میں سوویت یونین کے گرنے کے بعد آزادی حاصل کی تھی۔

ایک وکیل اور سابق یورپی پارلیمنٹ کی قانون سازکاجا کالاس سابق وزیراعظم اور سابق یورپی کمشنر اور ریفارم پارٹی کے تخلیق کاروں میں سے ایک سیم کالاس کی بیٹی ہیں۔

کاجا کالاس نے پہلی خاتون سربراہ کی حیثیت سے 2018ء میں ریفارم پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ ان کی پہلی کابینہ میں خواتین کو دیگر اہم عہدوں پر تعینات کیا جائیگا۔

کاجا کالاس کے وزیراعظم بننے کی یہ دوسری کوشش ہے، 2019ء کے انتخابات میں وہ ریفارم پارٹی کی زیر قیادت حکومت بنانے میں ناکام رہی تھیں، جس کے بعد سنٹر پارٹی کیلئے تین پارٹیوں کے اتحاد کے تحت حکومت بنانے کی را ہ ہموار ہو گئی تھی۔

جوری راتاس کی سربراہی میں قائم سنٹر پارٹی کی حکومت نے اپریل 2019ء میں اقتدار سنبھالا تھا، اتحادی حکومت میں قوم پرست، امیگریشن مخالف اور یورپی یونین مخالف ایجنڈا کی حامل ملک کی تیسری بڑی جماعت کی شمولیت کی وجہ سے یہ اقتدار پہلے دن سے ہی متزلزل رہا۔

راتاس حکومت اور ان کی کابینہ نے 13 جنوری کو بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔