تاریخ

کامریڈ امجد شاہسوار جسے موت بھی نہ مار سکی

التمش تصدق

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی صدر کامریڈ امجد شاہسوار کی موت نے ہزاروں سیاسی کارکنوں، ذاتی دوستوں اور محنت کشوں کو دکھی اور افسردہ کیا ہے۔ وہ جن افراد کے ساتھ ملا ان میں سے اکثریت کی یہ رائے ہے کہ وہ انکا دوست ہے، انکا استاد ہے۔ وہ انتھک سیاسی کارکن اور نڈر انقلابی رہنما تھا۔ اس نے ہمیں آزادی اور انقلاب کے عظیم آدرشوں سے روشناس کروایا جو حکمران طبقے کی طرف سے محکوموں کی تقسیم کے لیے پھیلائے ہوئے تمام تعصبات اور نفرتوں کے خلاف محنت کشوں کے مفادات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

امجد شاہسوار کے جہاں بے شمار دوست ہیں وہاں اس کے دشمنوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ جنہوں نے نہ صرف اس کی زندگی میں اس کے خلاف جھوٹ پر مبنی بے ہودہ من گھڑت الزامات لگائے، کردار کشی کی اور انسانی اخلاقی گراوٹ کی تمام تر حدود کو عبور کرتے ہوئے موت کے بعد بھی امجد شاہسوار کا جنازہ نہ پڑھنے کے فتوے جاری کئے۔ امجدشاہسوار کے دشمن اس کے مرنے کے بعد بھی اس سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کامریڈ امجد کوئی ایک فرد نہیں ہے بلکہ ایک نظریہ اور سوچ کا نام ہے۔ وہ نظریہ جو جب تک غلامی اور استحصال موجود ہے کبھی مر نہیں سکتا ہے، جو کبھی مٹ نہیں سکتا ہے۔

کامریڈ امجد کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اس کے دوست بھی اس کے نظریات کی وجہ سے تھے اور اس کے دشمن بھی نظریات کی بنیاد پر تھے۔ کامریڈ امجد نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف محنت کشوں کے عالمی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کے لیے نہ صرف برسوں کی دوستیاں قربان کیں بلکہ اپنے انفرادی وجود سے کہیں زیادہ طاقتور سرمایہ دارانہ نظام کے حواری حکمران طبقات کو محنت کشوں کا کھلا دشمن قرار دیا اور عمر بھر ان کے خلاف جدوجہد کی۔ محنت کشوں کے سوشلسٹ نظریات کا ہر جگہ پرچار کیا اور ان نظریات کا ہر محاذ پر دفاع کیا۔

اس کے دشمن اس کے طبقے کے دشمن ہیں، جو غلامی اور طبقاتی تفریق کو انسانی مقدر قرار دیتے ہیں، جو محنت کشوں کی پیدا کردہ دولت کو لوٹنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں، اس نظام کی پیدا کردہ غربت، جہالت، بیماری اور بیروزگاری کو غریب محنت کشوں کے گناہوں کی سزا کہتے ہیں، جو اندھیروں کے محافظ ہیں اور سرخ سویرے سے خوفزدہ ہیں۔

سوشلزم کے انقلابی نظریات سے خوفزدہ سرمایہ دارانہ نظام کے نظریاتی محافظ مذہبی پیشواوں اور پروفیسر حضرات نے کامریڈ امجد اور دیگر انقلابیوں کے خلاف کفر و دہریت کے الزامات عائد کیے اور فتوے جاری کیے، ان کو معاشرے میں اچھوت بنانے کی کوشش کی گئی لیکن انقلابیوں کی ثابت قدمی اور مسلسل جدوجہد نے خفیہ اداروں کے اشاروں پر ناچنے والے مذہبی لبادہ اوڑھے بہروپیوں کے ہاتھوں سماج کو یرغمال بنانے کی ہر سازش کو بے نقاب کیا۔

پاکستانی حکمران پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں آزادی پسندوں اور محنت کش عوام کے سر پر مذہب کے نام پر بندوق رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دہشت گردوں کو ریاستی سرپرستی میں پالا جا رہا ہے تا کہ آزادی اور انقلاب کی ہر آواز کو دبایا جائے۔

کہا جاتا ہے امجد شاہسوار کافر تھا اور تمام کامریڈ کافر اور منکر ہیں۔ اگر طبقات سے پاک مساوات پر مبنی انسانی سماج کے قیام کی جدوجہد کفر ہے تو امجد شاہسوار سمیت تمام کمیونسٹ کافر ہیں، اگر جموں کشمیر سے قابض افواج کے انخلا کی جدوجہد کفر ہے تو امجدشاہسوار کافر تھا۔ وہ رنگ، نسل، مذہب، قوم، صنف سمیت ہر قسم کے تعصبات اور نفرتوں کو ماننے سے انکار کرتا تھا اس لیے وہ منکر تھا، وہ سب کے لئے مفت اور یکساں طور پر علاج اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرتا تھا، وہ عورتوں سمیت تمام انسانوں کے مساوی حقوق کی بات کرتا تھا، وہ بے روزگاری کو لعنت کہتا تھا وہ غربت کو ذلت کہتا تھا، وہ ایک فیصد امیروں اور طاقتور افراد کی حاکمیت کا منکر تھا وہ اکثریتی محنت کشوں کی حکمرانی چاہتا تھا۔ اس لیے وہ جسمانی طور پر مر کے بھی بہتر انسانی مستقبل کا خواب دیکھنے والے ہر ذہن میں زندہ ہے۔

Altamash Tasadduq

مصنف ’عزم‘ میگزین کے مدیر ہیں۔