خبریں/تبصرے

پاکستان: 2020ء میں توہین مذہب کے قوانین کے تحت ریکارڈ مقدمات قائم ہوئے

لاہور (نامہ نگار) پاکستان سنٹر فار سوشل جسٹس (سی ایس جے) کی جانب سے جمع کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2020ء میں پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین کے تحت پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ مقدمات درج کئے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق 1987ء سے 2020ء کے دوران کم از کم 1855 افراد پر مذہب سے متعلق جرائم کے تحت الزامات عائد کئے گئے اور توہین مذہب کے قانون کے نام سے معروف پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 295 بی، سی اور 298 سی کے تحت مقدمات قائم کئے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق سال 2020ء میں سب سے زیادہ 200 ملزمان پر یہ الزامات عائد کئے گئے، جن میں متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد (70 فیصد) شیعہ مسلک سے ہے۔ دیگر متاثرین میں 20 فیصد احمدی، 5 فیصد سنی، 3.5 فیصد عیسائی، 1 فیصد ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ 0.5فیصد کے مذہب کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی جانب سے غیر مسلموں پر الزامات عائد کرنے کا رجحان بھی تبدیل ہو چکا ہے اور اب مسلمانوں کی طرف سے مسلمانوں پر ہی الزامات زیادہ عائد کئے جا رہے ہیں، اگرچہ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ کوئی بھی اقلیتی فرقہ یا مذہبی شناخت ان قوانین کے غلط استعمال سے محفوظ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ رجحان گہری فرقہ وارانہ تقسیم اور مذہب کے ناجائز استعمال کے عروج کا بھی اشارہ ہے، تاہم ناقص قانون سازی اب بھی پاکستان کے شہریوں کے سروں پر لٹکتی تلوار ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 1987ء سے اب تک پنجاب میں سب سے زیادہ قانون اور مذہب کے ناجائز استعمال کے 76 فیصد مقدمات قائم ہوئے، دوسرے نمبر پر سندھ میں 19 فیصد مقدمات قائم ہوئے۔ 2020ء میں پنجاب کی جیلوں میں 337 قیدی موجود تھے جن میں زیر سماعت مقدمات میں ملزم اور سزا یافتہ افراد شامل تھے۔ لاہور ڈسٹرکٹ جیل میں سب سے زیادہ 60 ملزمان موجودتھے۔

توہین مذہب اور مرتد ہونے سے متعلق الزامات کے بعد کم از کم 78 افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، جن میں 23 عیسائی، 9 احمدی، 2 ہندو اور 2 افراد ایسے تھے جن کی مذہبی شناخت کا پتہ نہیں چل سکا۔

اعداد و شمار میں بغیر کسی الزام کے مذہبی یا مرتد سمجھے جانے والے فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے اعداد و شمار کو خارج کر دیا گیا۔ تاہم ٹارگٹ کلنگ کے اعدادو شمار ان سے بہت زیادہ ہو سکتے ہیں۔

سی ایس جے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب کا کہنا ہے کہ ”یہ اعداد و شمار پاکستان کو ایسی جگہ کے طورپر پیش کرتے ہیں جہاں دنیا میں توہین رسالت کے قانون کا سب سے زیادہ غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قانون کا استعمال اکثر انسانی حقوق کی پامالی اور متعدد خلاف ورزیوں کیلئے کیا جاتا ہے، جس میں جسمانی تشدد، املاک اور معاش کا نقصان، بے دخلیاں اور حتیٰ کہ قتل بھی شامل ہے۔ یہ صرف الزامات لگنے والے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ بعض اوقات پورے خاندان اور برادری کو بھی اس طرح کے الزامات عائد کرنے کے بعد تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“