طنز و مزاح

سلطنتِ مرغیہ کا عروج و زوال

قیصرعباس

سلطنتِ مرغیہ کا نام تاریخ کے صفحات میں ’جلی‘ حروف سے لکھا جاتا ہے کہ اس نے معاشی خوشحالی کونئے معانی دیئے اور اپنے عہد کی اشرافیہ اور تیکنافیہ (ماہرین شعبہ ہائے گوناگوں) کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کرکے ان کے تخیل کی بلند پروازی سے بخوبی فائدہ اٹھایا۔ لیکن برصغیرکی اس سلطنت کی حیرت انگیز ترقی کا زیادہ تر سہرا شہنشاہ ِعالی مقام کی دانشمندی ہی کے سر جاتا ہے۔مورخین کے مطابق ا ن دُور رس اِقدامات کے پسِ پشت ایک اہم واقعہ ہے جسے تاریخ دانوں نے کچھ اس طرح بیان کیاہے:

ایک دن شہنشاہ ِعالی مقام اپنے تمام امراکے ہمراہ شیرکے شکار کے لئے روانہ ہوئے مگر پانچ گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے باوجود ایک بھی شیر ہاتھ نہ آسکا۔ ہاں کچھ زخمی ضرور ہوئے لیکن وہ بھی فرارہو نے میں کامیاب ہوگئے۔ اسی تگ ودو میں ظلِ سبحانی کا گھوڑا اپنے قافلے سے بہت دورنکل گیا۔ سارے دن کی تھکن اور پیاس سے بے حال شہنشاہ نے ہر طرح سے اپنے قافلے کو تلاش کرنے کی اَن تھک کوشش کی مگر بے سود۔ اسی دوران کہیں دور ایک ویرانے میں انہیں ایک کٹیانظر آئی اور انہوں نے اپنے نڈھال گھوڑے کی باگ اسکی طرف موڑدی۔ اب کیا دیکھتے ہیں کہ ایک باریش بزرگ کٹیا کے باہر عبادت میں مصروف ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی بزرگ منہ موڑکر کہتے ہیں ”بیٹا ذرا بیٹھ میں ابھی پانی لایا۔“ بزرگ کٹیا سے ایک کٹورہ پانی اور مرغی کا ایک ابلا ہو اانڈا ظلِ الٰہی کو پیش کرتے ہیں جسے کھاکر ان کی جان میں جان آتی ہے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ صرف ایک کٹیا، مرغیوں کا ایک بے مہار غول، چند مرغے اور چلو بھرپانی ہی ان کی زندگی کاکل اثاثہ ہیں۔ مزیدبتاتے ہیں کہ وہ مرغیوں اورمرغوں کو خدا وند کی رحمت سمجھتے ہیں اور ان کو کھانے کی بجائے ان کے انڈوں کو خلقت میں بانٹ دیتے ہیں جو ان کی تجارت سے اپنے کنبوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

خدا کاکرنا دیکھئے کہ اسی دوران شہنشاہ کا قافلہ بھی آ ملتاہے اور بابے کا انتہائی مشکور ہوتا ہے کہ اس نے شہنشاہ کی جان بچائی۔ قصہ مختصر یہ کہ شہنشاہ دل ہی دل میں بابے کی عقل مندی سے مرعوب ہوتاہوا دارالحکومت کی جانب روانہ ہوتاہے۔ ادھر خزانے کی ابتری اور محکمہ مالیات کی نا اہلی نے اب سلطنت کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کیا ہے۔ اسی دوران شہنشاہ کو خیال آتاہے کہ کیوں نہ بابے کی دانش مندی سے فائدہ اٹھایاجائے۔ بابے کو جنگل سے تزک و احترام کے ساتھ لایا جاتا ہے اور شہنشاہ عرض کرتا ہے کہ حضور اب آپ ہی سلطنت کو درپیش مسا ئل کا حل نکالئے۔ بابے کی نئی حکمت عملی کی بدولت ڈوبتی ہوئی سلطنت رات دن ترقی کی منزلیں طے کرنا شروع کردیتی ہے۔

بابے کی حکمت عملی بہت سادہ مگر پر اثر تھی جس کی بنیاد چند عام فہم اصولوں پر رکھی گئی تھی۔ پوری سلطنت میں اعلان کردیا گیا کہ آج سے مرغیوں کے تمام پکوان غیر قانونی ہیں اور صر ف علمائے کرام کے ہجروں، قصر ِشاہی اور امراکے محلات میں ہی مرغ قورمہ اور مرغ پلاؤ کا چلن قانونی ہوگا۔

مرغیوں کی جگہ اب خلقتِ خدا شتر مرغ پلاؤ اور قورمے پر زوردینے لگی۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ لوگ سادگی کی طرف مائل ہوئے اور دوسری جانب مرغیوں سے حاصل ہونے والے انڈوں کو بڑے پیمانے پرتجارت کاذریعہ بنایاگیا۔ اب کیاتھا، گھر گھر مرغی خانے کھل گئے۔ سرکاری ہرکارے انڈوں کو گھروں سے جمع کرتے او ر انہیں وزارتِ مرغیہ کے زیرِ اہتمام عالمی منڈی میں ایران، سیستان، باخترستان اور عربستان تک بحری جہازوں اور شاہراہِ ریشم کے ذریعے بر آمدکیا جانے لگا۔

دیکھتے ہی دیکھتے سلطنت میں وہ انقلاب آ گیا جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ گاؤ ں گاؤ ں خوشحالی کی لہر دوڑگئی۔ شہر شہر دولت کی ریل پیل نظرآنے لگی اور کچھ ہی عرصے میں سلطنت کی مالی حالت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ مرغ چوروں کی روک تھام کے لئے خصوصی قو انین وضع کیے گئے اور گھناؤنے جرائم کا مکمل طورپر قلع قمع کردیا گیا۔ کہاجاتا ہے کہ باباجی سلطنت میں خوشحالی لانے کے بعدواپس اپنی کٹیا کی طرف لوٹ گئے جہاں انہوں نے باقی زندگی مرغیوں کی خدمت میں گزار دی۔

لیکن ہر ”کمالے را ز والے“ کے مصداق سلطنتِ مرغیہ بھی پچاس سالہ عروج کے بعد اپنے منطقی انجام کو پہنچی۔ ہو ایوں کہ پڑوس کی کافرانہ ذہنیت رکھنے والی ایک سلطنت نے، جسے سلطنت مرغیہ کی یہ ترقی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، ایک گھناؤنی سازش کے ذریعے مرغوں کی پوری کی پوری نسل کو ختم کرادیا۔ اربابِ اختیار یہ سمجھنے سے قاصرتھے کہ مرغے کس طرح ایک ایک کرکے کسی موذی بیماری میں مبتلا ہوکرمالکِ حقیقی سے جاملتے ہیں اور مرغیاں اکیلی رہ جاتی ہیں۔ مرغیاں پہلے انڈے دینے کی صلاحیت سے محروم ہوگئیں او ر پھراسی غم میں ایک کے بعد ایک خودکشی پر مجبور ہوگئیں۔ یہاں تک کہ معاملہ پھر بابے تک پہنچالیکن ان کا کہنا تھا کہ”تالی تو دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے جس نسل میں مرد ہی ناپید ہوجائیں وہاں تو یہی ہوگا۔“ نتیجہ یہ ہوا کہ وہی سلطنت جس کا پوری دنیا میں طوطی بولتاتھا وہاں اب الو بولنے لگے۔ سلطنت مرغیہ کے عروج وزوال کی یہ ناقابلِ فراموش داستان اب بھی خوشحالی کی تاریخ کا ایک قابل تقلید با ب ہے جسے آج بھی ہر جگہ دہرایاجاسکتاہے۔ بشرطیہ کہ مرغوں کی حفاظت کا معقول ا نتظام بھی موجود ہو!

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔