پاکستان

پی ڈی ایم کے لانگ مارچ سے نہیں، تحریک نا انصاف کی حکومت کا خاتمہ ٹرالی مارچ سے ہو گا

فاروق سلہریا

پچھلے سال کے آخر میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے قیام سے پاکستان کے شہریوں میں ایک امید نے جنم لیا تھا۔ عمران خان کی قیادت میں قائم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت سے مایوس لوگ بڑی تعداد میں پی ڈی ایم کے جلسوں میں شریک ہوئے۔

ان جلسوں میں عوامی شرکت اس بات کی غمازی کر رہی تھی کہ لوگ سخت غصے میں ہیں۔ جس تیزی سے پی ٹی آئی کی حکومت غیر مقبول ہوئی، اس کی مثال پچھلے تیس سالوں میں کم از کم نہیں ملتی۔ اس عدم مقبولیت کی واحد وجہ یہ نہیں تھی کہ عمران خان نے حکومت میں آ کر کچھ نہیں کیا۔ اس کی دو دیگر وجوہات بھی تھیں۔ ایک یہ کہ اکثریت کے لئے حالات پہلے سے بھی برے ہو گئے۔ دوم، یہ کہ عمران خان نے بیس پچیس سال تک جو دعوے کئے تھے، ان کی وجہ سے ان کو ووٹ نہ دینے والے عام شہریوں کا بھی خیال تھا کہ شائد عمران خان کچھ کر جائیں جبکہ ان کے اپنے حامیوں میں خوش فہمیوں کا یہ حال تھا کہ وہ انقلاب سے کم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے والی ایک بڑی اکثریت درمیانے طبقے کے لوگوں کی تھی یا ایسے نوجوانوں کی تھی جنہیں ملکی تاریخ و سیاست کا شعور یا اے آر وائی سے ملا یا مطالعہ پاکستان سے۔

میڈیا، بالخصوص نیوز چینلوں کے پراپیگنڈے، نے بھی یہ تاثر بنا رکھا تھا کہ عمران خان ہی وہ مسیحا ہے جس کا ستر سال سے انتظار تھا اور تو اور بھارتی اور عالمی میڈیا میں عمران خان کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔ صرف زیادہ سیاسی تجربہ اور شعور رکھنے والے سیاسی کارکن نہ تو عمران خان کی جانب گئے نہ ہی انہوں نے عمران خان میں کسی قسم کی خوش فہمیوں کو جنم دیا۔

عمران خان کی بدقسمتی یہ بھی تھی کہ جب انہیں سلیکٹ کیا گیا تو حالات 1990ء سے یکسر مختلف تھے۔ دھاندلی کی مدد سے جب نواز شریف پہلی بار اقتدار میں آئے تو انہوں نے موٹر وے، پیلی ٹیکسی سکیم، تاجروں کو بے شمار مراعات اور نجکاری سے کرونی سرمایہ دار طبقے کو نواز کر کم از کم پنجاب اور ہزارہ ڈویژن کی حد تک معاشرے کی مختلف پرتوں میں بنیادیں ضرور بنا لیں۔ اس میں بھی شک نہیں کہ بے نظیر بھٹو کی موقع پرست اور رائٹ ونگ سیاست نے بھی نواز شریف کو پورا موقع دیا کہ وہ اپنے لئے رجعتی بنیادوں پر (برادری، شاونسٹ پنجابیت، مذہبی کارڈ کا ستعمال، تھانہ کچہری اور Patronage Netwroks) کی مدد سے اپنی مقبولیت بنانے میں کامیاب رہے۔ پھر یہ کہ ملک میں کبھی کسی حصے کو نواز شریف سے کسی معجزے یا انقلاب کی توقع نہ تھی۔ اس لئے کوئی اتنی بڑی مایوسی بھی نہ تھی۔

نواز شریف کا مقابلہ پیپلز پارٹی سے کیا جاتا اور کم از کم پنجاب کی حد تک یہ کہا جانے لگا کہ ’کھاتا ہے تو کیا، لگاتا بھی تو ہے‘۔ نوے کی دھائی میں ’Depoliticisation‘ یعنی سیاست سے بیگانگی اور عدم دلچسپی نے بھی جنم لیا۔ پیپلز پارٹی کی موقع پرستیوں کی وجہ سے آبادی کا ایک بڑا حصہ سیاست سے پیچھے ہٹ گیا۔ ادھر نجکاری کے خلاف ابھی کسی بڑی مزاحمت نے جنم نہیں لیا تھا۔ عام طور پر مزدور طبقہ بھی گولڈن شیک ہینڈ کو کوئی اچھی چیز سمجھ رہا تھا۔ طلبہ سیاست اور ٹریڈ یونین ہی نہیں، بایاں بازو بھی انتہائی کمزور شکل میں موجود تھا۔

ڈھائی سال قبل جب عمران خان کو سلیکٹ کیا گیا تو جو حالات تھے انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ شعور ایک مختلف سطح پر کھڑا ہے۔ نجکاری ایک ناپسندیدہ عمل ہے جس پر پچھلی تین حکومتیں عمل درآمد نہیں کر سکیں۔ طلبہ، مزدور، بایاں بازو اور خواتین ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھر رہے ہیں۔ پہلی بار علی وزیر جیسا ایک سوشلسٹ آزادانہ طور پر اسمبلی میں پہنچا۔ ’جب لال لال لہرائے گا، تب ہوش ٹھکانے آئے گا‘ ایک ایسا نعرہ ہے جسے کئی دن تک ٹیلی ویژن چینل بھی نشر کرتے رہے۔ یہ درست ہے کہ ابھی ترقی پسند قومی سطح پر کوئی مین سٹریم متبادل نہیں بنے اور اسی لئے جب پی ڈی ایم بنی تو عوامی غصے کا اظہار اس پلیٹ فارم سے ہوا۔

ہمارا موقف پہلے دن سے یہ تھا کہ یہ اتحاد موقع پرستیاں کرے گا۔ اتحاد کی دو اہم جماعتیں: مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی، کھل کر لڑائی نہیں لڑیں گی۔ ہم نے اس کے باوجود اس اتحاد کو تنقیدی انداز میں یہ کہہ کر خوش آمدید کہا کہ اس کے پلیٹ فارم سے ہونے والی موبلائزیشن کی وجہ سے خوف ٹوٹ رہا ہے…لیکن جس تیزی سے پی ڈی ایم کو پزیرائی ملی اسی تیزی سے اس اتحاد کی مرکزی قیادت نے سودے بازیاں تیز کر دیں۔ یہ قیادت پہلے بھی عوام کی نظر میں بہت قابل اعتبار نہیں تھی، لوگ اس قیادت کو قابل بھروسہ متبادل سمجھ کر نہیں، بلکہ قابل عمل (Viable) قیادت سمجھ کر باہر نکلے تھے۔

دریں اثنا سرکاری ملازمین اور پنشنرز، لیڈی ہیلتھ ورکرز، اساتذہ اور سب سے بڑھ کر نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ نے مزاحمت کی شاندار مثالیں قائم کر کے امید کی ایک نئی کرن کو جنم دیا ہے۔ جگہ جگہ لوگ، چھوٹی تعداد میں سہی، سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ غصہ احتجاج میں بدل رہا ہے۔

ہندوستان کے کسانوں کا ٹرالی مارچ یورپ تک پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کے لوگ بھی دیکھ رہے ہیں کہ نریندر مودی کا غرور کسانوں نے توڑ کر رکھ دیا ہے۔ لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ کیسے مولانا فضل الرحمن نے لانگ مارچ کی جگہ راولپنڈی سے اسلام آباد میں بدل دی یا کیسے چوری چھپے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور سمجھوتے کئے جاتے ہیں۔

پاکستان کے لوگ یہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ اگر ہوا بھی تو انجام سمجھوتے بازی کی شکل میں ہو گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا لوگ اس لانگ مارچ کا انجام دیکھنے کا انتظار کریں گے یا عوامی مزاحمت کی چنگاری نام نہاد لانگ مارچ سے بے نیاز ہو کر بھڑک اٹھے گی۔

ہماری پاکستان کے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی لانگ مارچ کے جھمیلے میں پڑے بغیر، مزدوروں کسانوں، طالب علموں اور خواتین کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ٹرالی مارچ کا اہتمام کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جگہ کسی اور سرمایہ دار سیاسی جماعت کی حکومت عام شہریوں کے مسئلے کا حل نہیں۔ عام شہریوں کو عام شہریوں کی حکومت بنا کر لوٹ کے اس نظام کو دفن کرنا ہو گا۔ یہی جمہوریت ہے، یہی مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔