خبریں/تبصرے

سعودی عرب کے پاس کتنی دولت ہے؟

لاہور (جدوجہد رپورٹ) سعودی عرب میں اثاثوں اور واجبات کی ایک متفقہ بیلنس شیٹ تیار کرنے پر کام جاری ہے۔ اس پروگرام میں مالی اعانت میں کمی، ویلتھ فنڈ کی سرمایہ کاری اور قرضوں سمیت تیل سے مالامال معیشت سے دور رکھی گئی اشیا شامل ہونگی۔

رائٹرز کے مطابق سعودی وزارت خزانہ کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد سرکاری بیلنس شیٹ کے ایم آر آئی کے مالیت کے برابر ہونا ہے۔ اس میں ایسے اثاثے اور واجبات شامل ہونگے جو اس وت ’آف بیلنس شیٹ‘ ہیں۔“

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے اہم خودمختار مالیاتی ادارے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) کو ان اصلاحات کا مرکز بنایا ہے، جس کا مقصد تیل برآمد کرنے والی معیشت کا انحصار فوسل فیول پرکم کیا جانا ہے۔

رائٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد کی سربراہی میں پی آئی ایف ایک سوئے ہوئے خودمختار سرمایہ کاری کے ادارے سے تبدیل ہو کر عالمی سرمایہ کاری کا ایک متحرک ادارہ بن چکا ہے، جس نے ہائی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ساتھ دیگر ایکویٹ سرمایہ کاری پر اربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔

خلیجی ممالک عام طور پر ان مجموعی قرضوں اور اثاثوں کے بارے میں معلومات شائع نہیں کرتے ہیں لیکن پی آئی ایف کی سرمایہ کاری کی پروفائل اور ریاستی فنڈز کی فراہمی نے سرمایہ کاروں کیلئے ایک مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔

رائٹرز کے ذرائع کے مطابق پی آئی ایف نے 2018ء اور 2019ء کے درمیان 21 ارب ڈالر کے قرضے لئے ہیں اور ایک نئی سہولت کو حتمی شکل دے رہی ہے جس کیلئے توقع ہے کہ مزید 10 ارب ڈالر قرضے لئے جائیں گے۔

سعودی عرب میں تیل کی دولت کے باوجود نوجوان آبادی کیلئے روزگار کی فراہمی بادشاہت کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت 2016ء سے معاشی پالیسیوں پر زور دے رہی ہے جس کا مقصد لاکھوں ملازمتیں پیدا کرنا اور 2030ء تک بے روزگاری کو 7 فیصد تک کم کرنا ہے، لیکن کفایت شعاری کا واویلا کرنے اور خساروں پر قابو پانے کی کوشش کے نتیجے میں سرمایہ کاری کا عمل سست ہو گیا اور کورونا وائرس بحران نے بیروزگاری کو ریکاڈ 15.4 فیصد تک بڑھا دیا ہے۔