خبریں/تبصرے

برما کی طرح آرمینیا میں بھی فوجی بغاوت؟

لاہور (جدوجہد رپورٹ) آرمینیائی فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ناگورنوکاراباخ تنازعے سے نمٹنے میں غلطیوں پر استعفے کا مطالبہ کئے جانے پرآرمینیا کے وزیراعظم نکول پشینیان نے ممکنہ بغاوت کے خطرے کا اظہار کیا ہے۔

جمعرات کے روز احتجاجی تحرک کے دباﺅ کے باعث وزیراعظم نے اعلان کیا کہ انہوں نے فوجی سربراہ اونیک گاسپریان کو برطرف کر دیا ہے اور فوج کو صرف وزیراعظم کے احکامات سننے کی تاکید کی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق وزیراعظم پشینیان نے فیس بک پر نشر ہونیوالے قوم سے خطاب میں کہا کہ ”اب سب سے اہم مسئلہ عوام کے ہاتھ میں اقتدار کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوںجو ہونے جا رہا ہے وہ فوجی بغاوت ہے۔“

وزیراعظم نے بعد ازاں سینکڑوں حامیوں کے ہمراہ دارالحکومت یریوان میں مارچ کیا۔ رواں ماہ 22 فروری کو دارالحکومت میں حزب اختلاف کی پارٹی کے حامیوں نے احتجاجی ریلی منعقد کر کے ٹریفک کا سلسلہ معطل کر دیا تھا۔ مظاہرین آزربائیجان کے ساتھ جنگ میں غلط حکمت عملی اپنانے پر وزیراعظم کو غدار قرار دے رہے تھے اور ان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

پشینیان کو نومبر سے ہی وزارت عظمیٰ سے علیحدگی اختیار کرنے کے مطالبہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 6 ہفتوں پر محیط ناگورنوکاراباخ کے نتیجے پر ناقدین برہم ہیں۔ تنازعہ کے دوران دونوں اطراف ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن اس پہاڑی علاقے اور آس پاس کے علاقوں کو آذربائیجان کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

نومبر میں جنگ کا خاتمہ دونوں فریقین کے روس میں دلالہ امن معاہدے پر دستخط کے بعد ہوا۔ امن معاہدے کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن موسم سرما کی شدت میں یہ احتجاج غیر فعال ہو گیا تھا، حالیہ دنوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

آرمینیائی فوج کے اعلیٰ فوجی افسران کے دستخط سے ایک بیان جمعرات کو ہی جاری کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ”موجودہ حکومت کی غیر موثر انتظامیہ اور خارجہ پالیسی میں سنگین غلطیوںنے ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔“ بیان میں حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی جانب کوئی اشارہ نہیں کیاگیا تھا۔

واضح رہے کہ فوج اور وزیر اعظم کے مابین تناﺅ پہلے ہی بڑھتا جا رہا تھا۔و زیر اعظم نے رواں ہفتے کے آغاز میں ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف تیران خاچریان کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ خاچریان نے وزیر اعظم کے اس دعوے کی تضحیک کی تھی کہ روس کے فراہم کردہ سکندر میزائلوں کا صرف دس فیصد ہی ناگورنوکاراباخ میں کارآمد طور پر استعمال ہو سکا تھا۔

فوج کی جانب سے جاری کیا جانیوالا حالیہ بیان اور وزیر اعظم کا رد عمل یہ ظاہر کر رہا ہے کہ فوج اور منتخب حکومت کے مابین تناﺅ میں کافی شدت ہے۔ وزیر اعظم بھی مسلح افواج کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں، تاہم سول حکومت کا خاتمہ اور فوجی بغاوت آرمینیا سمیت اس خطے کی سیاست میں ایک غیر معمولی واقعہ ہو گا۔