خبریں/تبصرے

75 فیصد سے زائد شامی مہاجرین ذہنی امراض کا شکار

لاہور (جدوجہد رپورٹ) خانہ جنگی کے نتیجے میں شام سے ہجرت یا بے گھری کا شکار ہونے والے مہاجرین میں سے 75 فیصد سے زائد شدید ذہنی امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔ خبر رساں ادارے ’گارڈین‘ کے مطابق برطانوی خیراتی ادارے نے بے گھر شامی شہریوں پر ایک سروے کے نتائج جاری کرتے ہوئے شامی مہاجرین کی ذہنی صحت کی بحالی کیلئے سرمایہ کاری کا مطالبہ کیا ہے۔

سروے کے مطابق لبنان، ترکی اور ادلیب میں رہنے والے شامی شہریوں میں سے 84 فیصد کو پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کی 15 اہم علامات میں سے کم از کم سات علامات موجود ہیں۔

لبنان میں موجود 15 فیصد شامی مہاجرین کودماغی صحت کی نگہداشت کی سہولت میسر ہے، ادلیب میں بے گھر ہونے والے شامی باشندوں میں یہ تعداد صرف 1فیصد ہے۔ شامی باغیوں کے آخری مضبوط گڑھ ادلیب میں بے گھر ہونے والے افراد میں سے 393 میں سے صرف 2 افراد ایسے تھے جن میں پی ٹی ایس ڈی کی کوئی علامات موجود نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین مہاجرین اور بے گھر افراد کی ذہنی صحت سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں اور فوری طور پر اس نسبت اقدامات کی مانگ بھی کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ 2011ء سے اب تک چلنے والی خانہ جنگی اور سامراجی یلغار کے دوران 5.6 ملین سے زائد افراد شام سے ہجرت کر چکے ہیں اور 6.6 ملین افراد ملک کے اندر بے گھر ہو چکے ہیں۔