خبریں/تبصرے

انکل سام کے پاس مزدور کیلئے 15 ڈالر بھی نہیں ہیں

 لاہور (جدوجہد رپورٹ) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ کم از کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرنے پر انکے ہاتھ بندھے ہیں۔ امریکی صدر طلبہ کو قرضوں سے نجات فراہم کرنے کے اپنے وعدوں سے بھی پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر نے اپنی الیکشن مہم کے دوران امریکہ میں مزدور کی کم از کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرنے اور طلبہ کو قرضوں سے نجات دلانے سمیت متعدد وعدے کر رکھے تھے۔

’گارڈین‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں بائیڈن کے اس دعوے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بائیڈن جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان کے پاس کم از کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ”اگر ریپبلکن پارٹی کا صدر منتخب ہو تو ڈیموکریٹس یہ بتاتے ہیں کہ امریکی صدر کا عہدہ ایک طاقتور عہدہ ہے جو اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن جب کہ ڈیموکریٹ صدر ہوتا ہے تو وہی سیاستدان یہ بتاتے ہیں کہ ایوان صدر کے پاس کچھ بھی کرنے کی طاقت اور اختیار نہیں ہے۔ تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ کہانی ایک افسانہ ہے اور کم از کم اجرت 15 ڈالر فی گھنٹہ مقرر کرنے کا اختیار امریکی صدر کے پاس موجود ہے لیکن وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے۔“

مضمون میں کہا گیا ہے کہ ”اگر ڈیموکریٹک پارٹی نے کورونا ریلیف بل کے تحت بھی کم از کم اجرت 15 ڈالر رکھی گئی تو قدامت پسند ڈیموکریٹ اسے روکیں گے۔ سوشل میڈیا پر مہم چلاتے ہوئے صدر کو بے اختیار قرار دینے کی اس داستان کو ناگزیر طورپرکم از کم اجرت 15 ڈالر مقرر کرنے کے اعلان سے پیچھے ہٹنے کے بعد ممکنہ تنقید سے بچنے کیلئے استعمال کیا جائیگا۔“

بائیڈن کے اس بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ بھی امریکہ کے محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے سرمایہ دارانہ نظام کو بحران سے نکالنے کیلئے محنت کش عوام پر مزید کٹوتیوں کا بوجھ ہی مسلط کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ تمام تر پالیسیاں سرمایہ داروں کے مفادات کے تحفظ اور سرمایہ دارانہ نظام کے تحفظ کیلئے ہی اپنائی جائیں گی۔