دنیا

پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش میں جمہوریت کی آڑ میں گھناؤنی سیاست کا ڈھونگ جاری ہے!

قیصر عباس

پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش کے تین معروف صحافیوں اور دانشوروں نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں آج جمہوریت کو سخت خطرات لاحق ہیں اور اس نظام کی آڑ میں گھناؤنے سیاسی کھیل کے ڈھونگ رچائے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے شجاع نواز، انڈیا کے سدارتھ وردراجن اور بنگلہ دیش کے شاہدالعالم نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک ورچوئیل مذاکرے میں تینوں ملکوں میں موجودہ صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ خطے کے مسائل کے حل کے لئے عوامی دباؤ کو بڑھانے کے علاہ ملکوں کے آپس کے مسائل کو علاقائی طورپر متحد ہوکر حل کرنا ہو گا۔

’جنوبی ایشیا میں جمہوریت کا مستقبل‘ کے عنوان پر اس مذاکرے کا اہتمام وا شنگٹن ڈی سی میں امیریکن مسلم انسٹیٹوشن (اے ایم آئی) نے کیا تھا جس کے روحِ رواں مسلمانوں کے حقوق کے کارکن مسلم صدیقی ہیں۔ پروگرام کی نظامت وائٹ ہاؤس کے امورپر وال سٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینہ صدیقی نے کی۔

شاہدالعالم بنگلہ دیش کے مشہور فوٹوگرافر ہیں جنہوں نے احتجاجی تحریکوں اور پس ماندہ لوگوں کی زندگی کی بھرپور عکاسی کی ہے جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ایک ٹوٹی پھوٹی جمہوریت آزادی کے بعدسے کام کر رہی ہے جس میں دو سیاسی پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ ملک میں آزادی رائے پر پابندیاں ا ور سیاسی تشدد اپنی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے۔ سیاسی انتقام اب اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ الیکشن ہارنے والی جماعت کے رہنما جیتنے والی پارٹی کے انتقامی حربوں سے بچنے کے لئے جلاوطنی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے حالا ت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں صحافی مشتاق احمد کو زیر حراست رکھ کر قتل کر دیا گیا ہے جس کی عالمی سطح پر احتجاج کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ایک اور صحافی کشو رکو بھی گرفتار کرکے ان پر تشدد کی اطلاعات ہیں۔ آرمی چیف آف سٹاف کے بھائی پر قتل کا الزام ہے لیکن ان کے خلاف کو ئی کاروائی نہیں کی جا رہی۔

سدارتھ وردراجن انڈیا میں ’روزنامہ ہندو‘کے مدیر رہ چکے ہیں اور آن لائن اخبار’دی وائر‘ کے بانیوں میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پی جے پی کی حکومت نے جمہوریت کو ناقابل یقین نقصان پہنچایا ہے۔ انڈیا میں سیکولرزم اور سماجی ہم آہنگی جمہوریت کی بنیاد تھی جسے جڑ سے اکھاڑ دیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت سیکولرزم کی روح کے خلاف غیر آئینی اقدامات کر رہی ہے جس میں گائے کی مذہبی اہمیت کی آڑمیں لوگوں پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ہندو مسلم شادیوں کے خلاف کئی صوبوں میں قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق نئے شہری قوانین کے تحت اقلیتوں اور مسلمانوں کی شہریت کی منسوخی کے خطرات سر اٹھا رہے ہیں۔ ملک میں ایک طاقتور مرکزی حکومت کو صوبائی حکومتوں پر مسلط کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس کی ایک مثال جموں کشمیر ہے جہاں اس کی صوبائی حیثیت ختم کر کے مرکزی حکومت لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آزادی رائے کے حقوق اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ صحافیوں اور لکھاریوں کو گرفتار کر کے جیل میں بند کیا جا رہا ہے۔

شجاع نواز اٹلانٹک کونسل میں خصوصی فیلو ہیں جو اس ادارے میں پاکستانی امور کے پہلے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ معروف تجزیہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں اور پاکستان پر دو کتابوں اور دفاعی امور پر مضامین کے مصنف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اداروں کے درمیان کشیدگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ فوج اور سول حکومتوں کے درمیان ایک مسلسل رسہ کشی ملکی مفادات کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ شہری مڈل کلاس اور جاگیرداروں کے درمیان مسلسل تصادم جا رہی ہے۔

ان کے مطابق اداروں میں شفافیت کا فقدان ہے اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کے لئے کوئی جواب دہ نہیں ہے۔ ان کے خیال میں عوامی سطح پر علاقے میں لوگوں نے اس صورت حال پر احتجاج کرنا شروع کر دیا ہے جس کی ایک مثال میانمار میں ملکی پیمانے پر لوگوں کا احتجاج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں آمرانہ طرز حکومت نے بنگلہ دیش کی آزادی کی راہ ہموار کی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ مجموعی طورپر جنوبی ایشیا میں جمہوریت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی، اقلیتوں کا استحصال اور سیاسی و مالی بدعنوانیاں روزانہ کا معمول ہو گئے ہیں۔ جمہوریت صرف الیکشن کرانے کا نام نہیں بلکہ لوگوں کو ان کی پرامن طورپر آواز اٹھانے کا حق دینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا کے ملکوں کے درمیان تجارتی اور عوامی سطحوں پر تعاون کی ضرورت ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔