خبریں/تبصرے

میانمار میں فوجی بربریت: مظاہرین پر فائرنگ سے مزید 38 ہلاکتیں، مجموعی تعداد 50 سے متجاوز

لاہور (جدوجہد رپورٹ) میانمار میں ’فوجی کُو‘کے خلاف احتجاج کو روکنے کیلئے فوج نے براہ راست فائرنگ اور تشدد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ بدھ کے روز مظاہرین پر فوج کی سیدھی فائرنگ سے کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں فوج کو مظاہرین کا تعاقب کر کے شدید تشدد کرتے ہوئے اور براہ راست فائرنگ کرتے ہوئے دکھائے جانے کے بعد جمعرات کے روز بھی میانمار میں احتجاج کا سلسلہ مزید وسیع ہونا شروع ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق منظر عام پر آنے والی ویڈیوز میں سکیورٹی فورسز کو ایک خالی جگہ پر کھڑے شخص کو گولی مارتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین پر فوج اور پولیس کی فائرنگ سے اب تک 50 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں، سینکڑوں زخمی ہیں۔ ہلاکتوں کی حقیقی تعداد جاننے میں ابھی تک عالمی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ملکی و غیر ملکی صحافیوں سمیت ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

جمعرات کے روز دوبارہ ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، سکیورٹی فورسز کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی اور فائرنگ بھی کی گئی۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ اور میانمار میں امریکی خصوصی ایلچی نے میانمار کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور بدھ کے روز کو ایک ’خونخوار دن‘ قرار دیا ہے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی شرنر برگنر نے امریکی صحافیوں کو بتایا کہ ”پولیس رضاکار میڈیکل عملے کو تشدد کا نشانہ بنا رہی تھی، وہ مسلح بھی نہیں تھے، ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا کہ پولیس احتجاج میں شامل ایک شخص کو ساتھ لے گئی اور ایک کلومیٹر کے فاصلے پر لے جا کر اسے گولی مار دی۔ ایک اور ویڈیو کلپ میں ایک سکیورٹی فورسز کا ایک گروپ ایک شہری کا تعاقب کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، جلد ہی گولی چلنے کی آواز آتی ہے، وہ شخص نیچے گر جاتا ہے۔ دو فوجی اس شخص کو بازوؤں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹتے ہوئے لے جاتے ہیں۔“

اے پی کے مطابق ایک ویڈیو کلپ میں تقریباً دو درجن سکیورٹی فورسز اہلکار ایک سڑک پر کچھ مظاہرین کا تعاقب کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، مظاہرین کو پکڑنے کے بعد انہیں بے رحمی کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں مکوں سے پیٹا جاتا ہے، اس دوران ایک آفیسر اپنے موبائل فون پر یہ منظر فلماتے ہوئے بھی نظر آتا ہے۔

بدھ کے روز سب سے زیادہ ہلاکتیں سب سے بڑے شہر ینگون میں ہوئیں، جہاں ایک اندازے کے مطابق کم از کم 18 افراد ہلاک ہوئے۔ شہر کے ایک ہسپتال میں بننے والی ویڈیو میں لواحقین کو اپنے عزیزوں کی خون سے لت پت لاشیں جمع کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ینگون میں جمعرات کو ایک بار پھر مظاہرین جمع ہوئے اور پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کا استعمال کرتے ہوئے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی جبکہ مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر کے مختلف شاہراہیں بند کر دیں۔

منڈالے میں بدھ کے روز 3 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ جمعرات کی صبح شہر پر لڑاکا طیاروں نے پروازیں بھی کیں اور مظاہرین کی ایک بڑی تعداد بھی ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر موجود رہی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ یکم فروری کو میانمار کی فوجی قیادت نے نو منتخب سول حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ فوج نے ایک سال کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کر رکھا ہے اور انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو تختہ الٹنے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ آنگ سان سوچی کی نو منتخب حکمران جماعت کی قیادت کو گرفتار کر لیا گیاتھا۔ فوجی بغاوت کے خلاف گزشتہ ایک ماہ سے میانمار میں مسلسل احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ فوج کی جانب سے ابتدائی طو رپر مظاہرین کو شدید نتائج کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں۔ تشدد اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال بھی کیا گیا ہے لیکن مظاہروں کی شدت میں مسلسل اضافے کے بعد فوج نے براہ راست کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔