خبریں/تبصرے

فریڈم ہاؤس رپورٹ پر انڈیا کا واویلا!

قیصر عباس

عالمی تنظیم’فریڈم ہاؤس‘ نے اپنی سال رواں کی رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا کی مرکزی حکومت اور اس کی ریاستوں کے اتحادیوں نے ناقدین کے خلاف ناقابل قبول اقدامات اٹھائے ہیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے دوران بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ملک میں مزدوروں کو بے جا نقل مکانی پر مجبور کیا گیا جس سے حکومت کی غلط منصوبہ بندی سے انہیں نقصانا ت اٹھانا پڑے۔

رپورٹ میں اس سال انڈیا کو’مکمل آزاد‘ سے ’جزوی آزاد‘ ملکوں کی فہرست میں کم درجہ دیا گیا ہے جس پر انڈیا کی حکومت نے سخت احتجاج کیا ہے۔ دہلی میں وزارت اطلاعات اور براڈکاسٹنگ کے ایک اعلان میں اس رپورٹ کو مغربی ممالک کی تعصب پسندی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔

حکومت نے کہا ہے کہ امن و امان کے سلسلے میں ریاستوں کو حق ہے کہ وہ آزادانہ طورپر قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کریں اور مرکزی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرتی۔ اعلان کے مطابق ”یہ رپورٹ غلط اطلاعات پر مبنی اور نامناسب ہے کیونکہ حکومت تمام شہریوں کو مساوات کی بنیادپر ان کے حقوق دیتی ہے۔ مسائل پر صحت مندانہ بحث ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے۔“

رپور ٹ کے مطابق اگرچہ گزشتہ سال عالمی پیمانے پر سیاسی آزادی میں کمی نہیں آئی لیکن شہریوں کے سول حقو ق کی فراہمی میں خواطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں پچھلے سال کے دورران 195 ملکوں اور 15 علاقوں کا جائزہ شامل ہے جنہیں 25 نکات پر پرکھ کر ان کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ ان ملکوں کو حالات کے مطابق ’آزاد‘، ’جزوی طورپر آزاد‘ اور ’غیر آزاد‘ کا درجہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں انڈیا اور پاکستان کے زیر اہتمام کشمیر کے تحت صورت حال کا جائزہ دو مختلف حصوں میں کیا گیا ہے۔ انڈیا کی بی جے پی کی حکومت اقلیتوں اور مسلمانوں کو مسلسل زیرنگیں رکھتے ہوئے ہندو اکثریت کے مفادات کی حفاظت کر رہی ہے جس پر دانشوروں اور عالمی اداروں نے سخت اعتراضات کئے ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔