خبریں/تبصرے

لاطینی امریکہ: سال 2020ء میں 23 ملین خواتین نوکریوں سے محروم ہوئیں

لاہور (جدوجہد رپورٹ) اقوام متحدہ کی ویمن ریجنل ڈائریکٹر برائے امریکہ اور کریبین ماریا نول وائزا نے متنبہ کیا کہ کورونا وبا کے دوران خطے میں تشدد اور غربت کا شکار خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ وبائی مرض نے خواتین کی محنت کی منڈی میں شرکت کی شرح میں دس سال پیچھے دھکیل دیا ہے، 2020ء میں یہ کمی 5.4 فیصد تک رہی۔ گزشتہ سال 118 ملین خواتین میں سے کم از کم 23 ملین خواتین نوکریوں سے محروم ہو گئیں۔

بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے ریجنل دفتر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خواتین پر وبائی مرض کا زیادہ منفی اثر اس لئے بھی ہوا کہ وبائی مرض سے زیادہ متاثر ہونے والے خدمات اور تجارت جیسے شعبوں میں خواتین کی موجودگی بہت زیادہ تھی۔

گھریلو کام کا شعبہ بھی وبائی مرض کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہوا، اس شعبہ میں خطے کی 10.5 فیصد سے 14.3 فیصد خواتین کی ملازمتیں موجود ہیں، 70 فیصد سے زائد محنت کش خواتین قرنطینہ اقدامات کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔

ماریا نول وائزا نے کہا کہ ”ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین سے متعلق نتائج غیر معمولی طور پر منفی رہے۔ بیروزگاری، غربت اور بلامعاوضہ نگہداشت کے کاموں میں اضافے سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔

ٹیلی سور کے مطابق اقتصادی کمیشن برائے لاطینی امریکہ اور کریبین کے بتایا ہے کہ گزشتہ سال 76 فیصد خواتین اپنی زندگی کے متعدد شعبوں میں صنف پر مبنی تشدد کا نشانہ بنی ہیں۔ ارجنٹائن میں صنفی تشدد کیلئے ہیلپ لائن پر روزانہ کی جانیوالی کالوں کی تعداد میں 39 فیصد اضافہ ہوا اور میکسیکو میں یہ کالیں بڑھ کر 53 فیصد ہو گئی ہیں۔

اس خطے میں بچے، نوجوان، مقامی اور افریقہ نسل کی آبادیاں بھی غربت سے متاثر ہیں اور یہ تعداد 209 ملین افراد تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔