تاریخ

جب پنجابی کلچر کے نام پر پنجاب اسمبلی میں ’چھوٹے ملازمین‘ کے سر سے پگ اتروائی گئی

فاروق سلہریا

پنجابی ثقافت اور زبان کی بات بغیر شاونزم کے کی جائے تو اچھی بات ہے۔ صفدر میر جیسے ساٹھ کی دہائی کے ترقی پسند پنجابی اس بات کے قائل تھے کہ اگر پنجابی نے بھی پنجابی بولنی اور پڑھنی شروع کر دی تو اسے بنگالی، پشتون، سندھی، بلوچ یا کسی دیگر گروہ کی مادری زبان سے وابستگی پر اعتراض نہیں رہے گا۔

بدقسمتی سے 1988ء کے انتخابات میں ’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘ کا نعرہ لگایا گیا جس کا مقصد پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں شکست دینا اور بے نظیر بھٹو کو ’سندھی‘ بنا کر پیش کرنا تھا۔ اتفاق سے نواز شریف ان دنوں ’سلیکٹڈ‘کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔

1997ء میں جب مرکز میں نواز شریف وزیر اعظم بنے اور پنجاب میں شہباز شریف وزیر اعلیٰ تو پنجابیوں کو جگانے والے دونوں بھائی پنجابی کو بھول چکے تھے۔ دلچسپ بات ہے کہ پنجاب کے سلیکٹڈ اور سلیکٹرز، جو کبھی پنجابی شاونزم کا کارڈ استعمال کرنے سے چوکتے نہیں، اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی میں بات نہیں کریں گے۔ ان دنوں پنجابی کلچر ڈے منانے کی بات ہو رہی ہے اور بتایا گیا کہ سرکاری افسر پگ باندھ کر کام کریں گے۔ مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔

شہباز شریف کی پہلی وزارت اعلیٰ کے دور میں پنجاب اسمبلی میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی نے قرارداد پیش کی کہ پنجاب اسمبلی میں گیٹ کیپر، خانساماں اور دیگر سٹاف، جسے ’نچلے‘ درجے کا سٹاف کہا اور سمجھا جاتا ہے، ان کے یونیفارم میں شامل پگڑی کو خارج کیا جائے۔

استدلال یہ تھا کہ ان ’چھوٹے‘ ملازمین کے سر پر پگڑی انگریز سرکار نے رکھوائی تھی تا کہ پنجابی کلچر کی توہین کی جا سکے اور ثابت کیا جا سکے کہ پگڑی تو معمولی لوگ پہنتے ہیں۔ یہ قرارداد اکثریت (غالباً متفقہ طور پر) منظور کر لی گئی۔ مزدوروں کے سر سے پگڑی اتار کر کلچر کی عزت بحال کر دی گئی۔

میں ان دنوں پاکستان اخبار میں کام کرتا تھا۔ اتفاق سے میں تھا بھی روزانہ شائع ہونے والے میگزین سیکشن کا انچارج۔ میں نے اس شرمناک حرکت کے خلاف کالم لکھا۔ میرا استدلال تھا کہ یہ ایک شرمناک طبقاتی قرارداد ہے جس کے نتیجے میں طبقاتی بنیاد پرپنجاب اسمبلی کے ملازمین کی تذلیل کی گئی ہے۔ یہ کالم ڈاک ایڈیشن میں تو شائع ہوا مگر لاہور ایڈیشن میں شائع نہ ہو سکا۔

اخبار کے مالک اکبر بھٹی نے جب ڈاک ایڈیشن میں میرا کالم پڑھا تو لاہور ایڈیشن سے میرا کالم نکلوا دیا۔ اتفاق سے جس رکن اسمبلی نے قرارداد پیش کی تھی وہ بھی رائے ونڈ کے ایک بھٹی صاحب تھے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔