پاکستان

50 لاکھ گھروں کے دعویداروں کا مزدوروں کے 84 ارب سے تعمیر مکانات پر ڈاکہ

حارث قدیر

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت 25 سال میں تعمیر ہونے والے مکانات اور فلیٹس کی قرعہ اندازی میں سے آئل اینڈ گیس کارپوریشن لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) سمیت پٹرولیم کی دیگر کارپوریشنز کے محنت کشوں کو بے دخل کر دیا ہے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں سب سے زیادہ رقوم پٹرولیم کارپوریشنز کے محنت کشوں کی جانب سے جمع کروائی گئی ہیں۔ صرف اوجی ڈی سی ایل کی طرف سے اب تک 83 ارب 74 کروڑ سے زائد رقم جمع کروائی جا چکی ہے۔

او جی ڈی سی ایل کے محنت کشوں کا دعویٰ ہے کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایک خودمختار ادارہ ہے جس میں وفاقی حکومت کی مداخلت بھی غیر قانونی ہے لیکن وفاقی حکومت نے مکانات اور فلیٹس کی الاٹمنٹ کےلئے ہونیوالی قرعہ اندازی میں او جی ڈی سی ایل کے محنت کشوں کی شمولیت کےلئے خط و کتابت کرنے کے بعد ایک خصوصی قانون سازی کے تحت پٹرولیم کے شعبے کی تمام کمپنیوں کے محنت کشوں کو قرعہ اندازی میں شامل ہونے سے روک دیا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کے زیر اہتمام تعمیر ہونے والے 1008 فلیٹس اور 500 مکانات کا افتتاح کیاتھا۔ افتتاح کے موقع پر ان فلیٹس کو ’نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ‘ کا حصہ قرار دیکر شہریوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ 25 سال قبل شروع ہونے والے منصوبہ کو وزیراعظم کی غریبوں کو سستے گھر فراہم کرنے کی سکیم کا حصہ قرار دیا گیا۔ قرعہ اندازی میں 1800 درخواستیں موصول ہونے کے باوجودیہ دعویٰ کیا گیا کہ 3000 درخواستیں موصول ہوئی تھیں اور ورکرز ویلفیئر فنڈ میں رقوم دینے والے محنت کشوں کو اس سکیم میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔ ڈاﺅن پیمنٹ اور قسطوں کی رقم سے بھی آگاہ نہیں کیا گیا، کل مالیت سے بھی کسی کو آگاہ نہیں کیا گیا اور تاحال قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے حقداروں کے ناموں کی فہرست بھی تاحال جاری نہیں کی جا سکی۔

ورکرز ویلفیئر فنڈ 1971ءمیں قائم کیا گیا تھا۔ اس فنڈ کا مقصد ملک بھر میں پیداواری شعبہ میں کام کرنے والے محنت کشوں کو سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اس فنڈ کو ایک سیکرٹری اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ایک خودمختار باڈی کے ذریعے سے چلایا جانا تھا۔ پیداواری شعبہ میں کام کرنے والی ہر صنعت اور کمپنی جو سالانہ 5لاکھ روپے سے زائد منافع حاصل کر رہی تھی وہ منافع کا 2فیصد حصہ ورکرز ویلفیئر فنڈ میں جمع کروانے کی پابند تھی۔ یہ رقم منافع میں محنت کشوں کے پانچ فیصد حصہ سے جمع کروایا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ فنڈ بنیادی طور پر مزدوروں کی شراکت داری کی بنیاد پر چلایا جاتا ہے۔

اس فنڈ کے قوانین کے تحت جو کمپنیاں سالانہ بنیادوں پر فنڈز جمع کرواتی ہیں ان کے محنت کش ورکرز ویلفیئر فنڈ کے مختلف منصوبہ جات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ صحت، تعلیم اور ہاﺅسنگ کی سکیمیں مرتب کرتے ہوئے مزدوروں کو سہولیات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔

ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ویب سائٹ کے مطابق چاروں صوبوں میں 114 ہاﺅسنگ سکیمیں مکمل کی جا چکی ہیں، 26 پر کام جاری ہے، 31 پلاٹ ڈویلپمنٹ کی سکیمیں مکمل ہو گئی ہیں۔ 60 ہزار محنت کشوں کو ہاﺅسنگ اور پلاٹ سکیموں سے مستفید کیا جا چکا ہے۔ 67 ہزار سے زائد طلبہ کو سکالر شپس دی گئی ہیں۔ 117سکولز قائم کئے گئے ہیں۔ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ اور سکل ڈویلپمنٹ کونسلز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، 84 ہیلتھ سکیمیں بھی مکمل کی جا چکی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تعمیر ہونے والے مکانات اور فلیٹس کی یہ سکیم 25سال قبل پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں شروع کی گئی تھی اور قرعہ اندازی میں حقدار قرار پانے والے محنت کشوں کو معمولی اقساط پر یہ مکانات فراہم کئے جانے تھے۔

او جی ڈی سی ایل کی یونین کے سیکرٹری جنرل انصار وڑائچ نے ’جدوجہد‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”او جی ڈی سی ایل کے ملازمین کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہے۔ او جی ڈی سی ایل نے آج تک 83 ارب 74 کروڑ روپے ورکرز ویلفیئر فنڈ میں دیئے ہیں لیکن ہمیں قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا گیا، یہ مکان اور فلیٹ صنعتی مزدوروں کےلئے تیار کئے گئے ہیں جنہیں نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم سے جوڑ کر جعلی مارکیٹنگ کی جا رہی ہے۔ “

انکا کہنا تھا کہ ”ورکرز ویلفیئر فنڈ کی انتظامیہ نے محنت کشوں کی جمع شدہ رقم سے ڈویلپ کئے گئے پلاٹوں کی آپس میں بندر بانٹ کر لی ہے اور کئی پلاٹ الاٹ کئے گئے ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ مکانات اور فلیٹس کی الاٹمنٹ میں بھی انتظامیہ اور حکومتی نمائندگان نے ملی بھگت سے اپنے من پسند افراد کو نوازا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرعہ اندازی میں منتخب ہونے والے افراد کے ناموں کی فہرست بھی عام نہیں کی گئی ہے۔ “

انکا کہنا تھا کہ ”اس کام میں گورننگ بورڈ کے چند ایسے ممبران شامل ہیں جو غیر فعال اداروں سے چنے گئے ہیں اور اسلام آباد میں پراپرٹی مافیا سے تعلق رکھتے ہیں، ان افراد نے راتوں رات قواعد اور قوانین میں ترمیم کر کے اس سکیم کے تحت من پسند لوگوں کو مستفید کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ”فوری طور پر یہ قرعہ اندازی والی ساری سرگرمی کو کالعدم قرار دیا جائے اور بورڈ میں حکومتی مداخلت کو ختم کرتے ہوئے قواعد میں کی جانیوالی خودساختہ ردوبدل کو واپس لیا جائے اور از سر نو او جی ڈی سی ایل کے محنت کشوں سمیت تمام حقداروں کو شامل کر کے قرعہ اندازی کی جائے اور تحت قواعد مکانات اورفلیٹس فراہم کئے جائیں۔بصورت دیگرہم عدالت میں جانے کے علاوہ احتجاج کا ہر طریقہ اپنائیں گے۔“

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے جوائنٹ سیکرٹری اور راولپنڈی اسلام آباد میں مزدور تحریک کے اہم رہنما ڈاکٹر چنگیز ملک کا کہنا تھا کہ ”حکومت نے محنت کشوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ 50 لاکھ گھروں کے دعویداروں نے غریب مزدوروں کے اربوں روپے کے چندے سے تعمیر ہونیوالی سکیموں پر ڈاکہ مار کر اسے نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں پہلے سے امید تھی کہ یہ حکمران 50 لاکھ تو دور چند مکانات بھی نہیں تعمیر کر کے دے سکتے، الٹا یہ محنت کشوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالیں گے اور یہی سب وہ کر رہے ہیں۔ ذلفی بخاری جیسے چند پیداگیر افراد نے مزدوروں کے خون پسینے سے جمع شدہ رقم لوٹنے کےلئے یہ منصوبہ بنایا ہے۔ محنت کشوں کے مکانات اور فلیٹس بھی اپنے من پسند افراد کو الاٹ کر دیئے ہیں اور میڈیا پر نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ کی تشہیر بھی کر دی ہے۔ لیکن اس منصوبہ میں حکمرانوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے، یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو تمام یونینوں اور محنت کشوں کو مجتمع کرتے ہوئے اس ڈاکہ زنی پر احتجاج کیا جائے گا اور متاثرہ محنت کشوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائیگا۔“

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔