خبریں/تبصرے

65 ملین پاکستانی آمدنی میں کمی اور کام کے اوقات میں تبدیلی سے پریشان

لاہور (جدوجہد رپورٹ) گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے ایک سال بعد بھی تقریباً 65 ملین پاکستانی، جو کام کرنے کی عمر والی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ بنتے ہیں، آمدنی میں کمی اور کام کے اوقات کار میں تبدیلی سے متاثر ہوئے ہیں۔

گیلپ پاکستان نے یہ سروے گزشتہ ہفتے 2210 رائے دہندگان کے روبرو انٹرویوز کے بعد پاکستانی کی مجموعی آبادی کے نمائندہ نتائج کے طور پر جاری کیا ہے۔ سروے کے مطابق کورونا وبا کا اثر شہروں کی نسبت دیہی علاقوں اور خواتین کی نسبت مردوں پر زیادہ رہا ہے۔ سندھ کے 3 چوتھائی لوگوں اور بلوچستان کے تقریباً نصف لوگوں کے مطابق وبائی کیفیت کا ان کے کام یا آمدنی پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ وبائی مرض کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثرہ آبادی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ظاہر ہوئی ہے۔ صنعت کے لحاظ سے تمام شعبہ پر اثرات ظاہر ہوتے ہیں لیکن خاص طور پر کنی کنی اور کھدائی پر، کاریگر، مشین چلانے والے اور پیشہ ور کام اور آمدنی میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ آمدنی پراثر کام کے اوقات کار سے کہیں زیادہ رہا ہے، فی گھنٹہ کام کی آمدن میں کمی واقعی ہوئی ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 65 ملین پاکستانی کہتے ہیں کہ کورونا وبا نے ان کے اوقات کار اور آمدن دونوں کو متاثر کیا ہے۔ 59 فیصد مرد اور 45 فیصد عورتیں کہتی ہیں کہ ان کے کام کے اوقات اور آمدن دونوں کورونا وبا کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ آمدن پر اثرات کام کے اوقات کار پر پڑنے والے اثرات سے زیادہ تھے۔

شہری علاقوں کے 49 فیصد رائے دہندگان کے مقا بلہ میں دیہی علاقوں میں 4 فیصد زیادہ رائے دہندگان کے مطابق ان کے اوقات کار اور آمدن متاثر ہوئے ہیں۔ تمام شعبوں میں کام کے اوقات کار اور آمدن متاثر ہوئی ہے لیکن سب سے زایدہ کان کنی اور کھدائی 71 فیصد، ٹرانسپورٹ، سٹوریج اور مواصلات 66 فیصد، تعمیرات 54 فیصد، بجلی، گیس اور پانی کے شعبہ جات 54 فیصد متاثر ہوئے ہیں۔

50 سال کی عمر کے افراد کے کام کے اوقات کار زیادہ متاثر ہوئے ہیں، تاہم مجموعی طور پر کام کے اوقات اور آمدن پر اثرات عمر کے تمام گروپوں میں ایک ہی جیسے ظاہر ہوئے ہیں۔