خبریں/تبصرے

پاکستان میں کورونا کے معاشی اثرات: بیروزگاری میں 34 فیصد اضافہ، آمدن میں 42 فیصد کمی

لاہور (جدوجہد رپورٹ) پاکستان میں کورونا وبا کے پھیلاؤ نے عوام کو معاشی طور پر بھی بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ حکومت کی طرف سے عوام کی معاشی صورتحال کوبہتر کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔ پاکستان بیوروآف شماریات (پی بی ایس) کے سروے کے مطابق لاک ڈاؤن کے پہلے 2 ادوار کے دوران بیروزگاری کی شرح میں 34.1 فیصد اضافہ ہوا اور آمدنی میں 42 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

پی بی ایس کے سروے کو بنیاد پر لاہور کی معروف نجی یونیورسٹی’لمز‘ کے محققین علی چیمہ اور ماہا رحمان کے مرتب کردہ نتائج کے مطابق کورونا وبا کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے دیہی اور شہری دونوں طرح کی آبادی کو شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ سروے کے مطابق شہری اور دیہی غیر زرعی معاشی سرگرمیوں سے جڑے شہریوں کو زرعی معاشی سرگرمیوں سے جڑے شہریوں کی نسبت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 42 فیصد اور دیہی غیر زرعی معیشت میں بیروزگاری کی شرح میں 38 فیصد اضافہ ہوا، ان شہریوں کی اوسط آمدن بالترتیب 48.7 فیصد اور 47.2 فیصدکم ہوئی۔ اس کے برخلاف زرعی معیشت سے جڑے شہریوں میں بیروزگاری کی شرح میں 4 فیصد اضافہ ہوا اور آمدن میں 6.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔

سروے کے مطابق آمدنی اور ملازمتوں کا سب سے بڑا نقصان عارضی ملازمتوں اور خود روزگاری سے جڑے لوگوں کو ہوا۔ وبا کی پہلی لہر کے خاتمے کے بعد ایک چوتھائی کے قریب، تقریباً 30 لاکھ، شہری اپنی ملازمتیں دوبارہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ نومبر 2020ء میں اوسط آمدن پہلے لاک ڈاؤن کی سطح سے 5.5 فیصد نیچے رہ گئی۔

محققین نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پہلے 2 لاک ڈاؤن میں مسلسل عوام پر معاشی دباؤ بڑھتا گیا ہے۔ پہلی لہر کے بعد لگائے گئے لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات کو کم کرنے کیلئے حکومت نے ”احساس کیش پروگرام“ کا اجرا بھی کیا تھا جس کے تحت 15 ملین خاندانوں کو 12 ہزار روپے کی رقم فراہم کی گئی تھی لیکن اس کے بعد دوسری لہر اور پھر تیسری لہر کے دوران اس طرح کے اقدامات نہیں کئے گئے۔

حکومت کیلئے کورونا کی تیسری لہر کے دوران سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا معاشی اثرات کو کم کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات کئے جا سکیں گے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق پی بی ایس کا سروے کورونا کی تیسری لہر کے دوران حکومتی پالیسیوں کیلئے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔ اس کا فالو اپ سروے بھی کیا جانا ضروری ہے اور حکومت کو کورونا ویکسین کی ہر شہری تک مفت فراہمی یقینی بناتے ہوئے لاک ڈاؤن کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کیلئے ناگزیر اقدامات کرنا ہونگے۔