خبریں/تبصرے

برما: فوج نے مزید 80 مظاہرین ہلاک کر دئیے، جمہوریت کے لئے 618 کارکن جان دے چکے

لاہور (نامہ نگار) میانمار کی فوج کی طرف سے مظاہرین کے خلاف تازہ کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ فوجی بغات کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران اس وقت تک کم از کم 618 شہریوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ فوجی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی سخت گیر پابندیوں کے باعث اطلاعات تک آزادانہ رسائی بھی بہت محدود ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی معلومات حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہفتہ کے روز ینگون کے شمال مشرق میں واقع شہر باگو میں میانمار کی فوج نے وحشیانہ کریک ڈاؤن کیا اور ہلاک ہونے والے 80 سے زائد شہریوں کی لاشیں ٹرکوں میں لاد کر فوجی اپنے ساتھ لے گئے۔

ایک رہائشی کے مطابق حکام نے امدادی کارکنوں کو لاشوں کے قریب نہیں جانے دیا۔ ”وہ تمام لاشوں کو جمع کر کے ایک فوجی ٹرک میں لاد کر ساتھ لے گئے۔“

واضح رہے کہ رواں سال یکم فروری کو اقتدار پر فوجی قبضے اور نو منتخب حکمران جماعت کی قیادت کو گرفتار کرنے کے بعد فوجی حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ مظاہرین روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں پر نکل کر فوجی بغاوت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سینکڑوں مظاہرین زخمی ہیں، اس کے علاوہ پولیس افسران اور اہلکاران کی بھی ایک بڑی تعداد کو مظاہرین میں شامل ہونے یا مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن سے انکار پر گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس اہلکاران و افسران کی ایک بڑی تعداد نے بھارت فرار ہو کر سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں فوج کی بمباری کی وجہ سے بڑی تعداد میں شہری تھائی لینڈ فرار ہو چکے ہیں۔