خبریں/تبصرے

’نیا پاکستان‘: قرضوں میں 15.5 ہزار ارب روپے کا اضافہ

لاہور (نامہ نگار) وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے ہفتہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ جون 2018ء سے دسمبر 2020ء کے دوران 30 ماہ میں ملک کے عوامی قرضوں میں 12.5 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

قومی اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ”اس رقم میں داخلی قرضوں میں 7.9 ہزار ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں میں 4.6 ہزار ارب روپے اضافہ ہوا ہے۔“

انکا کہنا تھا کہ ”موجودہ حکومت کو 6.2 ہزار ارب یا مجموعی اضافے کا 50 فیصد سابقہ حکومتوں کے لئے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں ادائیگی کرنا پڑی ہے۔“

انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کے مطابق حماد اظہر نے یہ بھی بتایا کہ ”کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے عوامی قرضوں میں 3 ہزار ارب روپے یعنی 24 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ قرض لینے کی وجہ سے نہیں بلکہ کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد روپے کے حساب سے بیرونی قرضوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔“

ابتدائی خسارے کی مالی اعانت کیلئے 2.4 ہزار ارب یااضافے کا 19 فیصد قرض لیا گیا، جبکہ ہنگامی ضروریات کو پورا کرنے اور کیش بیلنس کو پورا کرنے کیلئے 0.6 ہزار ارب یا اضافے کا 2 فیصد قرض لیا گیا۔

حماد اظہر کے مطابق ”مجموعی طور پرقرض میں 0.3 ہزار ارب روپے یا اضافے کا تقریباً 2 فیصد اس مدت کے دوران جاری کردہ حکومتی بانڈوں کی فیس ویلیو اور حقیقی قیمت کے درمیان فرق کی وجہ سے اضافہ ہواہے۔“

ایک اور سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ”موجودہ حکومت کی طرف سے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں ادا کئے گئے 6.2 ہزار ارب روپے میں سے موجودہ حکومت کے دور میں لئے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 1.3 ہزار ارب روپے کی رقم ادا کی گئی ہے۔“

عالمی قرضوں کی ادائیگی معطل ہونے کے اقدام کی وجہ سے پاکستان کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر کی عارضی ریلیف ملی اور ریلیف کا ایک تہائی چین کی طرف سے فراہم کیا گیا، اس رقم سے فوری طور پر قرض لینے کی ضروریات کو کم کر دیا ہے۔“

وزارت اقتصادی امور نے بتایا کہ ”جی 20 ممالک کے ذریعے ڈیٹ سروس سسپنشن انیشیٹو (ڈی ایس ایس آئی) کے تیسرے مرحلے کے تحت پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر کی امداد ملے گی۔ اس میں 785 ملین ڈالر مالیت کی اصل قرض کی ادائیگیوں پر وقفہ اور باقی سود کی ادائیگیوں کے حساب سے رقم شامل ہے۔“

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے عملے کی رپورٹ میں امدادی رقم پہلے 2 مراحل کے تحت ڈھائی ارب ڈالر رکھی گئی ہے۔ اس نے 3 مراحل کے تحت کل عارضی ریلیف کو 3.5 ارب ڈالر تک پہنچایا ہے۔